من نکردم شما حذر بکنید
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۱۵
جس طرح دوسرے امتحانی پرچے ہوتے ہیں، مثلاً مال، اولاد، وغیرہ۔ اس لیے خدا باری باری مختلف گروہوں کو سیاسی اقتدار دیتا ہے تا کہ ہر ایک کو آزمائے۔ قرآن کے مطابق، اسلامی مشن کا نشانہ فرد کو اسلامائز کرنا ہے نہ کہ اسٹیٹ کو اسلامائز کرنا۔
۲۔ پریا ملک نے کہا کہ ٹیم میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپس میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ اس وقت آدمی کو کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملہ میں ایک طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ رائٹ کیا ہے اور رانگ کیا ہے۔ اس طرح سوچنے کا یہ نتیجہ ہے کہ اختلاف بڑھتا ہے اور کبھی کبھی بریک ڈاؤن (breakdown) کی نوبت آجاتی ہے۔ یہ صورت حال اکثر غصہ کے وقت پیدا ہوتی ہے۔
اس مسئلہ کا حل قرآن میں یہ بتایا گیا ہے: الکاظمین الغیظ۔ ۔ یعنی غصہ کو پی جانے والے۔ قرآن میں یہ نہیں فرمایا: الفاقدین الغیظ ۔ یعنی وہ لوگ جن کے اندر غصہ سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ گویا اس معاملہ میں اصل چیز اینگر مینجمنٹ (anger management) ہے۔
۳۔ منجور مانی نے کہا کہ مسلمانوں میں نمبر ۷۸۶ کو مقدس مانا جاتا ہے جو کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کا نمبر ہے۔ مسلمان اس نمبر کو برکت اور حفاظت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے۔ میں نے کہا کہ اسلامی نقطہ نظر سے ۷۸۶ کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ نمبر نہ تو قرآن وحدیث میں بتایا گیا ہے اور نہ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں اس کا کوئی وجود تھا۔ یہ بلاشبہ ایک قوم پرستانہ عقیدہ ہے جو دوسری قوموں کے اثر سے لیا گیا ہے۔
۴۔ نصرت الہی نے کہا کہ میں نے قرآن میں یہ آیت پڑھی ہے کہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت نہیں دیتا۔ اب میں جاننا چاہتی ہوں کہ ہدایت دینے اور ہدایت نہ دینے کے لیے خدا کا اصول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ اصول قرآن میں بتا دیا گیا ہے، اور وہ ہے ھدی للمتقین (البقرۃ)
یعنی قرآن سے ہدایت ان لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے اندر تقویٰ کی صفت رکھتے ہیں۔ تقویٰ کا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues