Al-Risala · June 2005 · page 16

من نکردم شما حذر بکنید

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۱۶

مطلب اس سیاق میں محتاط (cautious) ہونا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو ہدایت کی پرواہ ہو، جو ہدایت کی تلاش میں ہوں، جنہیں یہ فکر ہو کہ وہ ہدایت سے محروم ہو کر نہ رہ جائیں۔ ایسے لوگوں کو ایک لفظ میں متلاشی حق (seeker of truth) کہا جاتا ہے۔ جو لوگ اس طرح متلاشی حق ہوں، خدا ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ان کے لیے ہدایت کا سامان کر دیتا ہے۔

۵۔ ۲ نومبر ۲۰۰۴ کو جب کہ ہماری گاڑی دہلی سے سہارن پور کی طرف جارہی تھی درمیان میں اچانک پریا ملک کے موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ یہ بمبئی کا ٹیلیفون تھا۔ پریا کی ممی نے بمبئی سے بتایا کہ پریا کے چچا پرکاش ملک (عمر 65) کا بمبئی میں انتقال ہو گیا۔ وہ ایک عرصہ سے کینسر کے مریض تھے۔

میں نے کہا کہ اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کسی شخص کا انتقال ہو تو دوسرے لوگوں کو یہ کہنا چاہیے: انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ جب موت کی خبر ملے تو انسان کو اس سے کیا اثر لینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت ایک ریمائنڈر (یاد دہانی) ہے۔ اس بات کی یاد دہانی کہ ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوا ہے اس کو دوبارہ اپنے خالق کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ گویا کہ ہر انسان جو اس دنیا میں آیا ہے وہ اپنا ایک ریٹرن ٹکٹ لے کر آیا ہے۔ اس ٹکٹ میں لکھا ہوا ہے: آخرت۔

موت اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ موت بتاتی ہے کہ انسان خدا کی دنیا سے آیا تھا۔ پھر وہ کچھ دن کے لیے زمین پر رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ مر کر دوبارہ خدا کی دنیا کی طرف لوٹ جاتا ہے تا کہ وہ اپنے عمل کے مطابق اپنا ابدی انجام پائے۔

۶۔ خالد انصاری نے بتایا کہ جب ہم اپنا سفر طے کر رہے تھے تو کچھ دیر کے لیے ایک ایسا ایریا آیا جہاں موبائل کے سگنل نہیں تھے۔ میں اپنے کسی ساتھی سے دہلی کنیکٹ کرنا چاہتا تھا لیکن موبائل کے با وجود سگنل نہ ہونے کی بنا پر بات نہ ہو سکی۔ میرا ذہن تو سم کی طرف چلا گیا کہ انسان بھی ایک موبائل

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page