Al-Risala · June 2005 · page 17

Man can not live by bread alone.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۱۷

فون کی طرح ہے۔ اگر اس کے دماغ میں اسپرچول سکنس نہ ہوں تو با وجود ہر چیز کے اس کا خدا سے کنفیکٹ نہیں ہوسکتا۔ اس کی حیثیت وہی ہے جیسے موبائل فون ہونے کے باوجود ہم کنفیکٹ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

میں نے کہا کہ آپ کا کہنا بالکل درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امکانی طور پر انسان ہر وقت خدا کے قریب ہے مگر خدا سے عملی طور پر ربط قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے ہوئے ہو۔ اگر آدمی اپنی طرف سے اہلیت کی شرط پوری نہ کرے تو سارے امکانات کے با وجود اس کا رابطہ خدا کے ساتھ قائم نہ ہوگا۔

۷۔ مسٹر رجت ملہوترہ نے کہا کہ ہم گلوبلائزیشن کے دور میں جی رہے ہیں۔ آج پوری دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ یہ بظاہر یونیورسل یونی کا واقعہ ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ انسانی سماج میں اب بھی یونی اور ہارمنی موجود نہیں۔

میں نے کہا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں گلوبلائزیشن کا عمل صرف ٹیکنیکل سنس میں ہوا ہے۔ چنانچہ موجودہ گلوبل کلچر نے ہم کو ٹیکنیکل یونی تو دی ہے مگر وہ ہم کو ہیومن یونی نہ دے سکا۔

ہیومن یونی کے لیے ہم کو ٹیکنیکل کلچر کے علاوہ ایک اور کلچر درکار ہے۔ یہ اسپرچول کلچر ہے۔ اسپرچول کلچر کے ذریعہ ہی یہ ممکن ہے کہ سوشل اور نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر ہارمنی لائی جاسکے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مسیح نے ان لفظوں میں کہا تھا:

Man can not live by bread alone.

ٹیکنیکل یونی میں باہم جوڑنے کے لیے جو رول کمیونیکیشن کا ہے وہی رول انسانی یونی میں فرینڈ شپ کا ہے۔ ہر انسان دوسرے انسان کو اپنا دوست سمجھے۔ ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے پیس ہو۔ یہی فرینڈ شپ کلچر ہے اور اسی فرینڈ شپ کلچر کے ذریعہ انسانی زندگی میں ہارمنی آسکتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page