Al-Risala · June 2005 · page 18

Man can not live by bread alone.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۱۸

دنیا کا نظام عملاً فرینڈ شپ کے اصول پر قائم ہے۔ مگر دنیا میں فرینڈ شپ کے دو طریقے ہیں۔ ایک، مادی اور دوسرا، اخلاقی:

In a non-religious culture, friendship is based on material interest, but in a religious culture friendship is based on moral principle. یہ ایک فیکٹ ہے کہ فرینڈ شپ کے بغیر زندگی کا کاروبار نہیں چل سکتا۔ اس لیے ہر آدمی کہیں نہ کہیں فرینڈلی بی ہیویئر کو اپناتا ہے۔ مگر یہ فرینڈلی بی ہیویئر عام طور پر انٹرسٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ جس عورت یا مرد کا انٹرسٹ جس سے وابستہ ہو اس کے ساتھ وہ فرینڈلی بی ہیویئر اختیار کرتا ہے۔ مثلاً تاجر کا انٹرسٹ کسٹمر سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے تاجر کسٹمر فرینڈلی بن جاتا ہے۔ اسی طرح وکیل کلائنٹ فرینڈلی ہوتا ہے۔ ڈاکٹر پیشنٹ فرینڈلی ہوتا ہے۔ لیڈر ووٹر فرینڈلی ہوتا ہے، وغیرہ۔

یہ سب سیکٹیریئن فرینڈ شپ ہے۔ اس کا عمومی فائدہ نہیں۔ یہ صرف ریلیجن یا اسپرچوئلٹی ہے جو ساری انسانیت کے لیے فرینڈ شپ کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ ایک سچا ریلیجس آدمی یا اسپرچوئل آدمی ہمیشہ انسان فرینڈلی یا ہیومن فرینڈلی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ صرف مذہب یا اسپرچوئلٹی ہے جس کے ذریعہ گلوبل فرینڈ شپ یا گلوبل ہارمنی دنیا میں قائم کی جاسکتی ہے۔

۸۔ فریدہ خانم نے دعوت اور صبر کے باہمی تعلق کے بارے میں ایک سوال کیا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے اپنے عمل کا آغاز دعوت سے کیا۔ چنانچہ بالکل ابتدائی دور میں آپ پر یہ آیتیں اتریں: یا ایھا المدثر 0 قم فانذر (المدثر ۱۔ ۲) اس کے بعد جب آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ گئے تو وہاں بھی آپ کا پہلا خطاب ایک دعوتی خطاب تھا۔ اس خطاب میں آپ نے فرمایا: اتقوا النار ولو بشق تمر (اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو) پھر اپنی زندگی کے آخری زمانہ میں جب آپ نے حج ادا فرمایا تو وہاں بھی آپ نے دعوتی کلام کیا۔ چنانچہ آپ نے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ان الله بعثنى كافة للناس فادواعنی (اللہ نے مجھے تمام انسانوں کے لیے پیغمبر

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page