Man can not live by bread alone.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۱۹
ب کر بھیجا ہے، تو تم لوگ میرا پیغام سارے انسانوں تک پہنچادو)
یہی معاملہ صبر کا ہے۔ صبر پیغمبر کی تحریک کے مختلف مراحل میں سے ایک مرحلہ نہیں۔ وہ پیغمبر کی زندگی کا مستقل حصہ ہے۔ چنانچہ نبوت کے آغاز میں آپ کے اوپر یہ آیت اتری: ولربك فاصبر (المدثر) اس کے بعد برابر صبر کی آیتیں اترتی رہیں۔ رمضان کا روزہ پوری عمر کے لیے ہوتا ہے اور پیغمبر نے اپنی زندگی کے آخری سال تک اس پر عمل فرمایا۔ آپ نے روزہ کے مہینہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ صبر کا مہینہ ہے (هو شهر الصبر)
جہاں تک مسلح تصادم (armed struggle) کی بات ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے۔ مسلح تصادم کے لفظ کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے خود سے فریقِ ثانی کے خلاف تصادم فرمایا۔ یہ بات سراسر بے بنیاد ہے۔ اس کے برعکس پیغمبر اسلام کا ارشاد ہے: لا تتمنوا لقاء العدو واسئلوا الله العافية (تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے امن مانگو)
اصل یہ ہے کہ خود اپنی طرف سے تصادم چھیڑنا نا پیغمبرانہ طریق کار کا کوئی حصہ ہی نہیں۔ قرآن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں جو چند مسلح مقابلے پیش آئے وہ تمام تر دفاعی مقابلے تھے ۔ خود قرآن میں اس کی شہادت موجود ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا کہ: قاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم (البقره (۱۹۰) یعنی جو لوگ تمہارے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں اُن سے لڑو۔ اسی طرح فرمایا: وهم بدؤکم اول مرة (التوبه (۱۳) یعنی وہی لوگ ہیں جنہوں نے پہلے جنگ کا آغاز کیا، وغیرہ۔
اسلام کا نشانہ دشمن کو دشمن قرار دے کر اُس سے جنگ کرنا نہیں ہے۔ اس کے برعکس اسلام کا نشانہ یہ ہے کہ حسن تبلیغ کے ذریعہ دشمن کو دوست بنایا جائے۔ اسلام کی اس پالیسی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues