Al-Risala · June 2005 · page 20

Man can not live by bread alone.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۲۰

ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ (حم السجدہ ۳۳-۳۴)

اس کے بعد آج کے اخبارات کا اجتماعی مطالعہ کیا گیا۔ ہمارے ساتھ ۷ نومبر ۲۰۰۳ کے چار اخبارات تھے۔ ٹائمس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس، راشٹریہ سہارا (اردو) پنجاب کیسری (ہندی) ٹائمس آف انڈیا کے پہلے صفحہ کی ایک سرخی یہ تھی: انل امبانی کو غصہ کیوں آتا ہے۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ دھیرو بھائی امبانی نے ریلائنس (Reliance) کے نام سے ایک کمپنی بنائی۔ اس کمپنی نے غیر معمولی ترقی کی۔ اُس نے بہت سے بڑے بڑے بزنس قائم کیے۔ یہاں تک کہ ریلائنس انڈیا کا سب سے بڑا انڈسٹریل گروپ بن گیا۔ دھیرو بھائی امبانی کے مرنے کے وقت اس کا سرمایہ تو سے ہزار کروڑ روپیہ تھا۔

دھیرو بھائی امبانی کے دو بیٹے تھے، مکیش امبانی اور انل امبانی۔ دھیرو بھائی امبانی کے مرنے کے بعد کمپنی کی ملکیت (ownership) کا سوال پیدا ہوا۔ ہندو رواج کے تحت بڑے بھائی مکیش امبانی ریلائنس کے چیرمین بن گئے۔ یہ بات دوسرے بھائی انل امبانی کو گوارا نہیں ہوئی۔ دونوں میں سخت اختلاف پیدا ہوا جو میڈیا تک پہنچ گیا۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ اس اختلاف کی جڑ یہ ہے کہ انل امبانی کے لیے کمپنی میں ماتحت کردار (subordinate role) قابل قبول نہیں۔

ماضی اور حال میں جب بھی کوئی اجتماعیت ٹوٹی ہے تو اس کا سبب ہمیشہ یہی رہا ہے۔ کوئی تنظیم یا اجتماعیت جب بھی قائم ہوتی ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی ایک کو چیرمین کا درجہ مل جاتا ہے اور دوسرے لوگوں کے لیے ماتحت حیثیت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہی اجتماعیت کا امتحان ہے۔ سو آدمیوں میں ننانوے افراد ماتحتی پر راضی ہوتے ہیں، تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص سردار بن کر نظام کو چلائے۔ نماز با جماعت کا پیغام ایک اعتبار سے یہی ہے۔ جس سماج میں اطاعت امیر کی روح ہو، وہی سماج ترقی کرتا ہے اور جو سماج اطاعت امیر کی روح سے خالی ہو جائے وہ سماج منتشر اور کمزور ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہندوستان ٹائمس (۷ نومبر ۲۰۰۳) میں ایک خبر تھی۔ اس کا عنوان یہ تھا-- واجپئی ہندوتو کے حق میں، مگر وہ کہتے ہیں کہ ہندو تو الیکشن کا ایشو نہیں بن سکتا:

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page