Al-Risala · June 2005 · page 21

Man can not live by bread alone.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۲۱

Vajpayee endorses Hindutva But says it can't be an election issue. بھارتیہ جنتا پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو کی تین روزہ میٹنگ ۲۶ نومبر ۲۰۰۳ کورانچی میں ختم ہوئی۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اٹل بہاری واجپئی نے کہا کہ ہندوتو زندگی کا ایک فلسفہ ہے۔ مگر ہندوتو کبھی الیکشن کا ایشو نہیں بن سکتا:

Hindutva is a philosophy of life, but it can not be an electoral issue. (p. 15)

یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے گویا اپنے سابقہ موقف سے واپسی کا اعلان ہے۔ اس کے لیڈر پہلے یہ کہتے تھے کہ ہندوتو کا تعلق ملک کی تعمیر نو سے ہے۔ وہ اس کو قومیت سے جوڑتے تھے اور اس کو کلچرل نیشنلزم کا نام دیتے تھے۔ مگر اب تجربہ کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ہندوتو کچھ ہندوؤں کی اپنی زندگی کا ایک ذاتی فلسفہ ہوسکتا ہے۔ مگر وہ ملک کی قومیت کی تشکیل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ گویا کہ ہندوتو کچھ لوگوں کے لیے اُن کی پرائیویٹ لائف کا ضمیمہ بن سکتا ہے۔ مگر وسیع تر معنوں میں وہ قومی زندگی کی تعمیر کی بنیاد بننے کا اہل نہیں۔

کسی قوم کا کلچر کیا ہو، اس کا فیصلہ کسی پارٹی کے دفتر میں نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ بین الاقوامی عوامل اور تاریخ کی طاقتوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔ زندگی کے اس اہم اصول کو نہ سمجھنے کی غلطی انڈیا کے ہندو پسند لیڈروں نے بھی کی ہے اور ٹھیک یہی غلطی پاکستان کے اسلام پسند لیڈروں نے بھی کی ہے۔ اور تاریخ کے قانون کے تحت دونوں ہی یکساں طور پر مکمل ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ پاکستان کے اسلام پسند لیڈروں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔ اسی طرح انڈیا کے ہندو پرست لیڈروں نے کہا کہ ہندوستان ہندو ازم کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔ مگر الاٹ منٹ کا یہ نظریہ دونوں جگہ صرف فرضی نعرہ ثابت ہوا۔

نئی دہلی کے اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا (۲۷ نومبر ۲۰۰۲) کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا: تکمیل نبوت پر ڈاکٹر اسرار احمد کا خطاب۔ اس عنوان کے تحت جو خبر درج تھی اس کا ایک حصہ یہ ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page