Man can not live by bread alone.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۲۲
پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد نے فلکی آڈیوریم نئی دہلی میں تکمیل نبوت کے موضوع پر تقریر انہوں نے کہا کہ قرآن مجید دیگر آسمانی کتب وصحائف کے برعکس انسان کے ذہنی ارتقاء کے نقطہ عروج پر اتارا گیا ہے۔ جہاں قرآن یعنی تکمیل ہدایت ہو چکی ہے۔ اس کے بعد اجراے وحی کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اور یہ واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ اب نبوت ورسالت کی ضرورت نہیں(صفحہ ۶)
قرآن بلاشبہ آخری کتاب ہے مگر مذکورہ استدلال درست نہیں۔ قرآن یا حدیث میں کہیں بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ قرآن انسان کے ذہنی ارتقاء کے نقطہ عروج پر اتارا گیا ہے۔ یہ سراسر ایک خود ساختہ مفروضہ ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ قرآن اسی خدائی ہدایت کو لے کر اتارا گیا ہے جو پچھلے نبیوں کو دی گئی تھی۔
مزید یہ کہ یہ ایک خطرناک نظریہ ہے۔ کیوں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن انسانیت کی روایتی دور میں اترا، جب کہ اب انسانی دنیا ترقی کر کے سائنسی دور میں پہنچ چکی ہے۔ اسی واقعہ کو استعمال کر کے قادیانیت اور بہائیت نے نئی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جب انسانیت اپنی تاریخ کے نئے مرحلہ میں داخل ہوگئی تو اب ضروری ہو گیا کہ آج کے انسان کی رہنمائی کے لیے نیا پیغمبر ظاہر ہو۔ قرآن کا اصل امتیاز یہ نہیں ہے کہ وہ ہدایت ربانی کی تکمیل ہے۔ بلکہ اس کا اصل امتیاز یہ ہے کہ وہ ہدایت ربانی کا محفوظ ایڈیشن ہے۔ قرآن کو استثنائی طور پر تاریخی اعتباریت (historical credibility) حاصل ہے، جبکہ دوسری مذہبی کتابیں تاریخی معیار پر معتبر ثابت نہیں ہوتیں۔ ہندی روز نامہ پنجاب کیسری (۲۷ نومبر ۲۰۰۲) میں آئی انسٹیٹیوٹ اور ریسرچ سنٹر کی طرف سے ایک رپورٹ چھپی تھی۔ اس رپورٹ کا عنوان یہ تھا:۔ نیزردان آپ بھی دے سکتے ہیں دوسروں کو روشنی کی سوغات۔
اس رپورٹ میں آنکھ کے عطیہ کے بارے میں ضروری تفصیلات بتائی گئی تھیں۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ بہت سے لوگ جو کسی وجہ سے آنکھوں سے محروم ہو گئے ہیں آپ ان کو دوبارہ روشنی دے سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues