Al-Risala · June 2005 · page 23

Man can not live by bread alone.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۲۳

ہیں وہ اس طرح کہ آپ مرنے سے پہلے تحریری وصیت کردیں کہ میری موت کے بعد میری دونوں آنکھیں نکال لی جائیں۔ اس کے بعد موت کے چھ گھنٹے کے اندر آپ کی آنکھ (eyeball) ایک تربیت یافتہ ڈاکٹر نکال لیتا ہے۔ پھر اس کے بعد آپ کی آنکھ کسی نابینا آدمی کے چہرے پر لگادی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ نابینا آدمی پہلے کی طرح دیکھنے لگتا ہے۔ یہ بتاتے ہوئے رپورٹ میں اس قسم کے الفاظ درج ہیں: دان میں ملی آنکھیں کسی کے جیون کو روشن بنا سکتی ہیں۔ لوگ بھی خوشیوں میں ساجھیدار بن سکتے ہیں۔ دوسروں کی زندگی میں روشنی بھرنے کے لیے آوشیک ہے کہ آپ اپنی آنکھیں دان کریں۔ آپ کا نیتر دان کسی کے جیون کو روشن کر سکتا ہے۔ آپ کے دان سے سبھی اندھوں کو آنکھیں مل جائیں گی۔ (صفحہ ۳)

اس اخباری رپورٹ کو پڑھ کر میں نے کہا کہ بلاشبہ یہ کام ایک قابل تعریف انسانی خدمت ہے۔ جن لوگوں نے اس طبی امکان کو دریافت کیا اور جو لوگ اس امکان کو عملی صورت دینے کے لیے سرگرم ہیں وہ سب یقیناً ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ میں نے سوچا کہ اسی نوعیت کی ایک زیادہ بڑی خدمت وہ ہے جس کے لیے کوئی تڑپنے والا نہیں۔ مادی آنکھ سے محروم لوگوں کو روشنی کا تحفہ دینے کے لیے ساری دنیا میں بڑی بڑی تحریکیں اور بڑے بڑے ادارے کام کر رہے ہیں۔ مگر بے شمار لوگ ایک اور روشنی سے محروم ہیں اور کوئی نہیں جو لوگوں کو یہ روشنی فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہو۔ یہ سچائی کو دیکھنے والی آنکھ سے محرومی تندرست آنکھوں والے لوگ بھی اس دوسرے پہلو سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔ مگر ان کے اندھے پن کو دور کرنے کی کسی کو فکر نہیں۔ اس طرح ہمارا کارواں سڑکوں سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ ڈیڑھ سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد ہم لوگ سہارنپور شہر میں داخل ہوئے۔ سفر کے دوران ہی موبائل ٹیلی فون کے ذریعہ سہارنپور کے منتظمین کو اطلاع دے دی گئی تھی۔ ڈاکٹر محمد اسلم اور دوسرے لوگ گھنٹہ گھر کے پاس مل گئے ۔ ان کے ساتھ چل کر ہمارا قافلہ پنجاب ہوٹل میں پہنچا جہاں ہم لوگوں کے قیام کے لیے منتظمین نے پانچ کمرے بک کر لئے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page