Al-Risala · January 2005 · page

1. Patience is the companion of wisdom.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

ساتھ اس میں جدید سہولتیں پوری طرح موجود ہیں۔ مثلاً ہموار راستے، پانی کا انتظام، صاف ستھرے با تھ روم، وغیرہ۔

قدیم مسلم عہد کے ان عمارتوں کو دیکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ مسلم سیاحوں نے اپنے سفر ناموں میں ان کا ذکر بر باد ماضی کے عنوان کے تحت کیا ہے۔ مگر میں نے اس کو دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ یہ تو تجدید ماضی کا واقعہ ہے۔ جدید حالات نے خود اسپین کے اندر یہ داعیہ پیدا کیا کہ وہ ان مسلم یادگاروں کو دوبارہ سجائیں ۔ یہ سجانا مسلم عہد کے نام سے ہوا ہے۔ کیوں کہ اگر ان سے مسلم عہد کی یادگار کا لفظ نکال دیا جائے تو ان کی تاریخی حیثیت ختم ہو جائے گی اور ان کی تاریخی حیثیت کا ختم ہونا اسپین کی حکومت کی سیاحتی مفاد میں نہیں۔

۱۴ دسمبر ۲۰۰۳ کو جب کہ میں اسپین میں تھا ایک سنسنی خیز خبر میڈیا کے ذریعہ معلوم ہوئی۔ وہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کی گرفتاری تھی ۔ یہ واقعہ عراق میں ہوا مگر جدید کمیونیکیشن کے ذریعہ منٹوں کے اندر اس کی خبر ساری دنیا میں پھیل گئی ۔ ہر جگہ بس اسی کا چرچا ہونے لگا۔ اس خبر کا خلاصہ ایک اخبار سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے:

امریکی فوج نے سابق عراقی صدر صدام حسین کو اُن کے آبائی وطن تکریت میں چھاپہ مار کر زندہ گرفتار کر لیا۔ عراق میں امریکی انتظامیہ نے اس کی اطلاع دی۔ بغداد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراق میں امریکی انتظام کار پال بر یمر (Paul Bremer) نے سابق عراقی صدر صدام حسین کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خواتین و حضرات ہم نے صدام کو پکڑ لیا: Ladies and gentlemen, we got Saddam Husain. اس پریس کانفرنس کے دوران ایک ویڈیو دکھایا گیا جس میں صدام حسین لمبے بکھرے سفید بال اور گھنی داڑھی رکھے نظر آئے۔ امریکی فوج کے لفٹننٹ جنرل ریکار ڈو سینچیز (Lt. Gen. Recardo Sanchez) نے بتایا کہ کئی ماہ کے دوران جمع کی گئی انٹلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر یہ چھاپا مارا گیا جس کا نام ’’آپریشن ریڈ ڈان‘‘ تھا۔ اس چھاپے میں ایک بھی گولی نہیں چلانی پڑی۔ اس آپریشن میں کل چھ سو سے زائد

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page