Al-Risala · January 2005 · page

1. Patience is the companion of wisdom.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

فوجیوں نے حصہ لیا۔ امریکی افسر نے بتایا کہ جب امریکی فوج نے صدام حسین کو گھیرے میں لیا تو ان کی طرف سے کوئی بھی مزاحمت نہیں ہوئی۔ امریکی آفیشل نے مزید جانکاری دی کہ جہاں صدام حسین چھپے ہوئے تھے وہاں سے ۳، اے کے۔ ۴۷ رائفلیں اور ۷۵ ہزار امریکی ڈالر برآمد ہوئے ہیں۔ خبروں کے مطابق، جب امریکی فوج ان کے مقام پر پہنچی تو وہ ایک فارم ہاؤس کے بنکر میں چھپے ہوئے تھے۔ صدام کی گرفتاری کے فوراً بعد ان کی شناخت کی جانچ کے لیے ان کا ڈی این اے ٹسٹ کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ گرفتار کیا جانے والا شخص ہی صدام حسین ہے۔ ۹ اپریل۲۰۰۳ کو صدام کو معزول کیے جانے کے بعد سے عراق میں اتحادی فوجوں پر مسلسل حملے ہو رہے تھے۔ صدام حسین نے اپنے بیٹوں عدی اور قصى کی امریکی فوج کے ہاتھوں موت کے بعد بھی اپنے پوشیدہ ٹھکانوں سے امریکیوں کے خلاف حملوں کی اپیلیں جاری رکھی تھیں۔

امریکا نے صدام حسین کی گرفتاری کے لیے ۲۵ ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ عدی اور قُصی کی موصل میں موجودگی کی خبر دینے والے مخبر کو ۳۰ ملین ڈالر کے علاوہ امریکا میں پناہ(asylum) دی گئی ہے۔ ۶۶ سالہ سابق عراقی صدر ۹ اپریل ۲۰۰۳ سے مفرور تھے جب سے امریکا نے بغداد پر قبضہ کیا تھا۔ وہ امریکا کے ۵۵ مطلوبہ لوگوں کی لسٹ میں سر فہرست تھے۔

۱۵ دسمبر کا دن کانفرنس کے منتظمین نے اشبیلیہ کی تاریخی عمارتوں کو دیکھنے کے لیے خاص کیا تھا۔ تمام شرکاء جدید طرز کی دو بسوں پر سوار ہو کر مختلف عمارتوں کو دیکھتے رہے۔ یہ سب مسلم عہد کی عمارتیں تھیں۔ مسلم عہد کے خاتمہ کے بعد ان عمارتوں کا حال وہ ہو گیا تھا جس کی تصویر کشی الطاف حسین حالی نے اپنے اس شعر میں کی ہے:

کوئی قُرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے مساجد کے محراب و در جا کے دیکھے مگر پچھلے پچیس سالوں میں حالات بہت بدل گئے ہیں۔ یہ سیاحت کی انڈسٹری کا کرشمہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں سیاحت کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسپین میں سیاحوں کی دلچسپی کا سب سے بڑا مرکز مسلم عہد کی عمارتیں تھیں۔ ان عمارتوں میں اب اقتصادی قیمت (commercial value) پیدا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page