Man can not live by bread alone.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۲۴
یہاں پہنچ کر ہم لوگوں نے پہلے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی۔ یہ نماز ہوٹل کے ایک بڑے کمرہ میں پڑھی گئی۔ اس میں ہمارے قافلہ کے علاوہ دوسرے لوگ بھی شریک ہو گئے۔ اس طرح یہ کافی بڑی جماعت بن گئی۔ جماعت جب کھڑی ہوئی تو کچھ لوگ دوڑ کر دھلی ہوئی سفید چادریں لے آئے تا کہ اس کو بچھا کر اس پر نماز پڑھی جا سکے۔ میں نے کہا کہ نماز پڑھنے کے لیے دھلی ہوئی چادروں کی ضرورت نہیں بلکہ دھلی ہوئی روح کی ضرورت ہے۔ سب سے اچھی نماز وہ ہے جو دل کی صفائی کے ساتھ پڑھی جائے۔
جماعت کے بعد میں نے مختصر طور پر بتایا کہ نماز کی حقیقت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ نماز کا ایک فارم ہے۔ مگر نماز سے خدا کو جو اصل چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے اندر تواضع (modesty) پیدا ہو۔ میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: ان الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر (العنكبوت ٤٥)
میں نے کہا کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ نماز ادا کرنے سے اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ فحش اور منکر چیزیں نمازی کی زندگی سے ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ دراصل معیاری نماز کا ذکر ہے نہ کہ نتیجہ نماز کا۔ یعنی سچی نماز کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کے اندر ایک نئی سوچ پیدا کرے اور اس سوچ کے تحت وہ بالقصد فحش اور منکر جیسی چیزوں کو چھوڑ دے۔
دوپہر کے کھانے سے فراغت کے بعد ہوٹل کے ایک بڑے کمرہ میں پریس کانفرنس ہوئی۔ اس پریس کانفرنس کے لیے تین بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ اخبار کے لوگ ٹھیک ٣ بجے وہاں پہنچ گئے۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ تھی کہ منتظمین نے باقاعدہ طور پر صرف چار اخبار کے نمائندوں کو دعوت نامہ بھیجا تھا۔ مگر اخباری حلقہ میں میری آمد کی خبر پہنچ گئی اور بیشتر اخباروں کے نمائندے اپنے آپ یہاں آگئے۔
پریس کانفرنس نہایت معتدل ماحول میں ہوئی۔ لوگوں نے ہر قسم کے ملکی اور ملتی سوالات کئے اور میں نے ان کے سوالات کا اپنے انداز میں جواب دیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے بتایا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues