Man can not live by bread alone.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۲۵
کی لیڈر مسٹر محمد علی جناح تھے۔ اپنے مقصد کے اعتبار سے یہ دونوں دھارے ایک دوسرے سے مختلف تھے مگر دونوں کا طریق کار ایک تھا۔ دونوں کا ایک مفروضہ حریف تھا اور دونوں اپنی سیاسی مہم اس مفروضہ حریف کے خلاف جاری کئے ہوئے تھے۔ گاندھی کا حریف انگریز تھا اور جناح کا حریف ہندو۔ دونوں اپنے اپنے انداز میں اپنے سیاسی حقوق کے لیے اپنی مہم چلا رہے تھے۔ دونوں بڑے لیڈروں کا یہ طریق کار بعد والوں کے لیے رجحان ساز (trendsetter) بن گیا۔ چنانچہ ۱۹۴۷ کے بعد ملک میں جتنی بھی تحریکیں اٹھیں وہ سب کے سب اپنے حقوق کے مطالبہ پر مبنی تھیں۔ کوئی بھی تحریک اپنے فرائض کی ادائیگی کی بنیاد پر نہیں چلائی گئی۔ اس طرح پورے برصغیر ہند کا سماج رائٹ کانشس (right conscious) سماج بن گیا، جب کہ صحت مند سماج وہ ہے جو ڈیوٹی کانشس (duty conscious) سماج ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈیوٹی کانشس سماج ہی تعمیری سماج ہے۔ ایسا ہی سماج تعمیر وترقی کی راہ میں آگے بڑھتا ہے۔ جس سماج میں لوگ اپنے حقوق (ادھیکار) مانگنے لگیں وہاں نتیجہ کے اعتبار سے صرف انارکی پیدا ہوگی۔ فطرت کا قانون ہے کہ فرض (ڈیوٹی) ادا کرنے والوں کو ان کے حقوق اپنے آپ مل جاتے ہیں اور جو لوگ اپنے حقوق کے لیے چیخ پکار کریں ان کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ میں نے کہا کہ ہمارا مشن ایک اعتبار سے یہ ہے کہ ہم اس سماجی سفر کو دوبارہ ایک نیا رخ دینا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا سماج حق شناس سماج بنے۔ وہ صرف حقوق شناس سماج بن کر نہ رہ جائے جیسا کہ آج نظر آتا ہے۔
یہ پریس کانفرنس ایک گھنٹہ سے زیادہ دیر تک چلی۔ مختلف اخباروں کے نمائندے نہایت دلچسپی کے ساتھ اپنے اپنے سوالات کرتے رہے اور میں ان کے جوابات دیتا رہا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ ملک کی کس پارٹی کو سب سے اچھی پارٹی مانتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسٹرارون شوری نے ایک بار
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues