Man can not live by bread alone.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۲۶
میرے بارے میں کہا تھا کہ: مولانا صاحب، ہمارے ہندوستانی فیملی کے ایلڈر ممبر ہیں۔ میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں اور ملک کے ہر شہری کے لیے میرے دل میں وہی جذبات ہیں جو ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لیے ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک ماں کے کئی بیٹے ہوں اور آپ اس سے پوچھیں کہ تمہارا کون سا بیٹا تم کو زیادہ اچھا لگتا ہے۔ اس کے جواب میں یقیناً ماں یہ کہے گی کہ مجھے تو اپنا ہر بیٹا اچھا لگتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ میں ملک کی ہر پارٹی کو یکساں طور پر شفقت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ میں اپنے دل میں ہر ایک کے لیے نیک تمنائیں پاتا ہوں۔
ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ عام طور پر لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان اس ملک میں ایک پچھڑی ہوئی قوم بن گئے ہیں۔ وہ ترقی کے دور میں بہت پیچھے ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں لوگ اپنی رائے میڈیا کے ذریعہ بناتے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، میڈیا سنسنی خیز خبروں (sensational news) کی انڈسٹری ہے۔ چنانچہ ایسا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی نسبت سے کوئی سنسنی خیز نیوز وجود میں آئے تو میڈیا اس کو نمایاں کرتا ہے حالاں کہ عین اسی وقت مسلمانوں میں بہت سی تعلیمی اور تعمیری سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر میڈیا میں ابھی تک ان کو جگہ نہیں ملی ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے ان کو کئی تعلیمی اور تعمیری سرگرمیوں کا حوالہ دیا جو ابھی تک میڈیا میں جگہ نہ پاسکیں۔ میں نے اپنی گفتگو میں بیڈنیوز کا استعمال کر دیا تھا اس پر ایک اخبار نویس نے بیڈ نیوز کے لفظ پر اعتراض کیا۔ میں نے اس کے جواب میں اپنے بیان کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ بیڈنیوز سے میری مراد سنسنی خیز خبر (sensational news) تھی۔ میری اس مراد کو اخبار نویس حضرات نے تسلیم کر لیا اور گفتگو معمول کے مطابق چلنے لگی۔
ایک سوال بابری مسجد کے بارے میں تھا۔ میں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمانوں کے نمائندے آپس میں بات چیت کر کے طے کر لیں وہ ایک خیالی بات کرتے ہیں۔ کیوں کہ دونوں فرقوں میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کو اس کے فرقہ کی طرف سے نمائندگی کا سرٹیفیکٹ دیا گیا ہو۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا قابل عمل حل صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ عدالت اس معاملہ میں ایک واضح
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues