Al-Risala · June 2005 · page 27

Man can not live by bread alone.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۲۷

فیصلہ دے اور دونوں فریق اس فیصلہ کو مان لیں۔ مثال کے طور پر اگر عدالت اس معاملہ میں جگہ کی منتقلی (re-location) کا فیصلہ دے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس فیصلہ کو مان لیں اور مسجد کے ری لوکیشن پر راضی ہو جائیں۔

سہارن پور کی جرنلسٹ یونین کے صدر مسٹر چرن جیولال شام کو دوبارہ آ کر مجھ سے ہوٹل میں ملے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے میں آپ کے بارے میں اور مسلمانوں کے بارے میں نیگیٹیو خیالات رکھتا تھا۔ مگر آج پریس کانفرنس کے موقع پر آپ نے جس طرح تمام باتوں کی وضاحت کی اس کے بعد میرا مائنڈ بالکل صاف ہو گیا۔ اب میں آپ اور مسلمان دونوں کے بارے میں پازیٹیو مائنڈ سے سوچنے لگا ہوں۔ سہارن پور میں آپ مجھ سے جو کام چاہیں لے سکتے ہیں۔

پریس کانفرنس کے بعد میں اپنے کمرہ میں آگیا۔ یہاں دوبارہ بہت سے لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ان میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ نشست کی صورت میں یہ سلسلہ رات کے بارہ بجے تک جاری رہا۔ درمیان میں صرف کھانے اور نماز کا وقفہ ہوا۔ ان نشستوں میں لوگوں کی طرف سے جو سوالات آئے وہ مختلف اور متنوع قسم کے تھے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی سب باتیں ہم کو ٹھیک معلوم ہوتی ہیں۔ وہ ہمارے دل کو اپیل کرتی ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کچھ مسلمان آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی حقیقت ہم کو سمجھائیے کیوں کہ ہم اس کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔

میں نے کہا کہ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ جو شخص بھی آپ کو میری مخالفت کرتا ہوا ملے آپ اس سے پوچھیں کہ کیا تم کبھی ان سے ملے ہو اور اختلافی بات پر ان سے ڈسکشن کیا ہے۔ تقریباً ہر مخالف یہ کہے گا کہ ہم ان سے کبھی نہیں ملے۔ البتہ دوسروں سے سن کر یا اخباروں میں پڑھ کر ان کے بارے میں رائے بنائی ہے۔ اس کے بعد آپ ان لوگوں سے بھی گفتگو کیجئے جو مجھ سے ملے ہوں اور براہ راست طور پر میری باتیں سنی ہوں۔ پھر آپ ایسے لوگوں سے پوچھیے کہ ان کو کیا اختلاف ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان میں سے ہر ایک یہ کہے گا کہ مجھے تو ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ اسی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page