Al-Risala · June 2005 · page 28

Man can not live by bread alone.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۲۸

ذاتی تجربہ سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ مخالفین کس حد تک درست ہیں۔ یہ لوگ سنی سنائی باتوں پر اپنی رائے بنائے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں سے آپ صرف یہ کہیں کہ تم جا کر ان سے ملواور براہِ راست ان سے ان کے نظریہ کو سمجھو۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد ایسے لوگوں کے اختلافات ختم ہو جائیں گے۔ ۱۸ نومبر کی صبح کو ہم لوگوں نے ہوٹل میں جماعت کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ہمارے قافلہ کے لوگ میرے کمرے میں بیٹھ گئے۔ اس کے بعد حسبِ معمول دین کے مختلف موضوعات پر گفتگو جاری ہو گئی۔ سب سے پہلے میں نے کہا کہ اس وقت فجر کی نماز میں میں نے سورہ الکہف کی آیتیں تلاوت کی ہیں۔ ان میں آپ نے وہ آیت سنی جس کا ترجمہ یہ ہے: کہو کیا میں تم کو بتاؤں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں۔ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں اکارت ہو گئی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ (الکہف ۱۰۳۔۱۰۴) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک ایسے عمل میں مشغول ہو سکتا ہے جو اُس کے اپنے نزدیک بظاہر ایک اچھا عمل ہو۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک ایسا عمل ہوگا جو خدا کے نزدیک سرے سے کوئی قیمت نہ رکھتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں سب سے پہلا کام یہ جاننا ہے کہ پسندیدہ عمل کا معیار (criterion) کیا ہے۔ لوگ یہ کرتے ہیں کہ بطور خود ایک معیار مقرر کر لیتے ہیں جو ان کے اپنے عمل پر صادق آتا ہو اور پھر اپنے ذہن کے مطابق، خود ساختہ طور پر ایک پسندیدہ عمل میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے عمل کے معاملہ میں خدائی معیار کو دریافت کرے اور پھر اُس کے مطابق اپنے عمل کو بنائے۔

مثال کے طور پر کچھ لوگ اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق، سوشل سروس کو بہت اچھا کام سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک مدر ٹریسا اس معاملہ میں ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر یہ ایک خود ساختہ نظریہ ہے۔ قرآن وحدیث کے مطابق، سماجی خدمت یقیناً اچھا کام ہے۔ مگر جب دعوت آخرت کا کام نہ ہورہا ہو تو ایسی حالت میں سماجی خدمت کی کوئی اہمیت نہ ہوگی۔ جو لوگ مدر ٹریسا کے ماڈل کو لے کر سماجی خدمت میں مشغول ہوں اُن کے بارہ میں کہا جائے گا کہ لوگوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page