Man can not live by bread alone.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۲۹
وقتی عذاب سے بچانے کے کام کو تم نے سب سے بڑا کام سمجھا۔ حالاں کہ سب سے بڑا کام یہ تھا کہ لوگوں کو ابدی عذاب سے بچانے کی کوشش کی جائے۔
کمرے کے دروازہ پر دستک ہوئی ۔ دروازہ کھولا گیا تو سہارن پور کے مسٹر شکیل احمد شمسی ملنے کے لیے آئے تھے۔ وہ ہماری مجلس میں شریک ہو گئے ۔ انہوں نے کئی سوالات کئے ۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ قرآن کے متن اور اس کے حاشیہ (تفسیر) میں فرق ہے یا دونوں ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کل ہر گروہ کی ایک پسندیدہ تفسیر ہے جو ان کے اکابر نے لکھی ہے۔ ہر گروہ اپنی پسندیدہ تفسیر کو اسی طرح مقدس سمجھتا ہے، جس طرح وہ قرآن کے متن کو مقدس سمجھتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کا عقیدہ بالکل بے بنیاد ہے۔ کسی بھی شخص کی تفسیر قرآن کے متن کا بدل نہیں ہوسکتی۔ خواہ وہ مفروضہ اکابر کی لکھی ہوئی ہو، یا دوسرے لوگوں کی لکھی ہوئی۔ میں نے کہا کہ ہرتفسیر کی حیثیت مفسر کے اجتہاد کی ہے۔ یہ ایک مانی ہوئی بات ہے کہ مجتہد کی رائے صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی ہو سکتی ہے۔ (المجتهد يخطئ ويصيب)
ان کے کچھ سوالات فقہی اختلافات کے بارے میں تھے۔ مثلاً انہوں نے پوچھا کہ قرأت فاتحہ خلف الامام کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں دو فریقوں کے درمیان جو نزاع ہے وہ بالکل غیر ضروری ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ لا صلوة إلا بقرأة فاتحة الكتاب (الترمذی، احمد) یعنی ہر نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن میں یہ آیت ہے کہ : واذا قری القرآن فاستمعوا له وانصتوا (الاعراف ۲۰۴) دونوں کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ حدیث میں فاتحہ کا عمومی حکم بتایا گیا ہے۔ یعنی ہر نماز میں فاتحہ ضروری ہے۔ اور قرآن کی آیت میں اس صورت حال کا حکم ہے جب کہ قرآن بلند آواز سے پڑھا جا رہا ہو۔
ان دونوں حکموں کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ عام حالات میں ہر نمازی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کو پڑھے۔ یہ عام حکم ہے لیکن جب جماعت کی نماز ہو رہی ہو اور امام جہری
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues