Man can not live by bread alone.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۳۰
قرآت کر رہا ہو تو اس وقت امام کی قرأت تمام مقتدیوں کی طرف سے نمائندہ قرأت ہوگی۔ اب سورہ فاتحہ کا سننا کافی ہو جائے کہ اس کو اپنی زبان سے دہرانا۔ گویا کہ ایک قرأت اگر اصالہ قرأت ہے تو دوسری قرأت نیابۃً قرأت۔
میں نے کہا کہ امام کی قرأت کے وقت جلدی جلدی فاتحہ کے الفاظ کو دہرانا ایک غیر سنجیدہ فعل ہے۔ ایسے غیر سنجیدہ فعل کا عبادت سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری بات یہ کہ سری نمازوں میں مقتدی خاموشی کے ساتھ فاتحہ کی قرأت کر سکتا ہے۔ اس قرأت کے لیے قرآن کی آیت مانع نہیں۔ کیوں کہ قرآن کی آیت میں اس صورت حال کا ذکر ہے جب کہ مقتدی اپنے امام کی زبان سے قرأت کی سماعت کر رہا ہو۔ سماعت نہ کرنے کی صورت میں حدیث کا حکم قابلِ عمل ہو جائے گا، یعنی مقتدی کا خاموشی کے ساتھ فاتحہ کی قرأت کرنا۔
اس موقع پر ایک بات میں نے یہ کہی کہ ملاقات کے کچھ آداب ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص کسی سے ملے تو اس کو یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ کیا آپ نے مجھ کو پہچانا۔ اس قسم کا سوال آداب ملاقات کے خلاف ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ملاقات کے لیے آنے والا آدمی خود ہی اپنا تعارف بتائے یا اپنا کارڈ دے دے۔ اکثر لوگ اس معاملہ میں آداب ملاقات کا لحاظ نہیں کرتے اور ایسے سوالات کرنے لگتے ہیں جو دونوں ہی کے لیے شرمندگی کا باعث ہوں۔
ہوٹل کے کمرہ میں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور مختلف دینی موضوعات پر باتیں ہو رہی تھیں۔ ساڑھے سات بجے کمرہ کے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ہوٹل کے رسیپشن سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ صبح کے ناشتہ میں کیا لیں گے۔ ہمارے ساتھی اپنے اپنے چوائس کے مطابق مختلف فرمائش کرنے لگے۔ میں نے لوگوں کو سختی سے روکا۔ میں نے کہا کہ ناشتہ یا کھانا بھوک مٹانے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ لذت اور پسند کے لیے۔ آپ لوگ لذت اور ضرورت میں فرق کرنا سیکھیے اور فارسی مقولہ کے مطابق، اس اصول کو پکڑ لیجئے کہ: خوردن برائے زیستن نہ زیستن برائے خوردن (کھانا جینے کے لیے ہے، نہ کہ جینا کھانے کے لیے)۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues