Man can not live by bread alone.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۳۱
پھر میں نے لوگوں کو اصولِ تفسیر کی نسبت سے ایک بات بتائی۔ میں نے کہا کہ قرآن کی ایک آیت یہ ہے : فاقرء وا ما تیسّر من القرآن (المزمل ٢٠) یعنی قرآن سے پڑھو جتنا تم کو آسان ہو۔ اس آیت کا براہِ راست تعلق تہجد کی نماز سے اس کا براہِ راست مفہوم یہ ہے کہ تہجد کی نماز میں قرأت کے معاملہ میں تیسیر کا اصول اختیار کرو۔ یعنی بہ آسانی جتنا ممکن ہو اتنا قرآن سے پڑھو۔ اس آیت میں تیسیر کا لفظ آیا ہے۔ تیسیر کے لفظی معنی ہیں، آسان کرنا۔ یہاں تیسیر کا لفظ اپنے ابتدائی مفہوم کے لحاظ سے تہجد کی قرأت کے لیے ہے۔ مگر اپنے توسیعی مفہوم کے لحاظ سے اُس کا تعلق زندگی کے ہر معاملہ سے ہے۔ مثلاً کھانے میں تیسیر یہ ہے کہ وہ کھانا کھایا جائے جس کی فراہمی آسان ہو۔ سونے میں وہ بستر استعمال کیا جائے جو آسانی سے میسر ہو سکے۔ سفر میں وہ طریقہ اختیار کیا جائے جو مسافر کے لیے آسانی کے ساتھ قابلِ عمل ہو، وغیرہ۔ قرآن کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے اس اصول کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ قرآن کے معانی کا بہت بڑا حصہ قاری کے لیے غیر معلوم ہو کر رہ جائے گا۔
۱۸ نومبر کی صبح کو ۱۰ بجے ہم سب کو ہوٹل سے دہرہ دون روڈ کے اس مقام پر لے جایا گیا جہاں نیشنل میڈیکل کالج بنایا گیا ہے۔ آج اس کالج کا افتتاح تھا اور اسی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے مجھے سہارنپور بلایا گیا ہے۔ یہ کالج یونانی اور آیور ویدک تعلیم اور ریسرچ کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کالج کے بانی اور روحِ رواں ڈاکٹر محمد اسلم ہیں۔ یہ اُن کی خوش قسمتی ہے کہ سہارنپور میں اُن کو بہت سے ہندوؤں اور مسلمانوں کا تعاون حاصل ہے۔ ان معاونین میں گروجی کا نام سر فہرست ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اس کے لیے وقف کردی ہے۔
یہ میڈیکل کالج ایک خوبصورت علاقہ میں قائم ہے۔ اُس کے ایک طرف ندی بہہ رہی ہے اور اُس کے دوسری طرف دور تک سر سبز درختوں کے مناظر ہیں۔ تعمیرات کا ایک حصہ بن چکا ہے اور بقیہ حصوں پر کام ہو رہا ہے۔ میں نے اُس کے مختلف حصوں کو چل کر دیکھا۔ میرے دل سے دعا نکلی کہ خدایا، اس ادارہ کی خصوصی مدد فرما اور اس کو ترقی دے کر ایک بڑا ادارہ بنادے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues