Al-Risala · June 2005 · page 32

Man can not live by bread alone.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۳۲

کالج کے گراؤنڈ میں شامیانہ کے نیچے ایک جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں یہاں موجود تھے۔ پہلے افتتاح کی رسم ادا کی گئی جس کی صورت یہ تھی کہ میں نے ایک رسی کھینچی۔ اس کے بعد ایک پردہ ہٹا اور دیوار میں لگی ہوئی سنگی تختی سامنے آگئی۔ اُس کے بعد میں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور کہا کہ خدایا، اس ادارہ کی خصوصی مدد فرما اور اس کو اعلیٰ ترقی کے منازل تک پہنچادے۔

اس کے بعد ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔ میں نے کہا کہ یہ میڈیکل کالج ملک میں ایک نئے دور کی علامت ہے۔ اور وہ یہ کہ اس ملک میں علیحدگی پسندی کا دور ختم ہو گیا۔ اب ہندو اور مسلمان دونوں نے متفقہ طور پر یہ طے کیا ہے کہ وہ باہم مل کر ملک کی تعمیر کریں گے۔

یہ میڈیکل کالج یونانی اور آیورویدک دونوں کی تعلیم اور ریسرچ کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہاں ہندو اور مسلمان دونوں طبی تعلیم حاصل کریں گے اور قومی اتحاد کی ایک نئی تاریخ کا آغاز کریں گے۔ اس اعتبار سے یہ کالج صرف ایک کالج نہیں بلکہ وہ ملکی تعمیر کے لیے گویا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد ہم لوگ شامیانہ کے تحت بنے ہوئے اسٹیج پر آگئے۔ یہاں مختلف لوگوں کی تقریریں ہوئیں۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ تعلیم زندگی کا اہم ترین شعبہ ہے۔ تعلیم کی اہمیت کے بارہ میں مولا نا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں بجاطور پر یہ کہا تھا کہ:

بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے پھر میں نے کہا کہ ایک تعلیمی ادارہ صرف تعلیمی ادارہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اسی کے ساتھ اس کے بہت سے مزید فائدے ہیں۔ مثلاً تعلیمی ادارہ انٹرایکشن (اختلاط) کا میدان ہے۔ یہاں مستقل طور پر ہر مہیب ادارے کے نوجوان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے ڈسکسن کر کے باتیں ایک

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page