Al-Risala · June 2005 · page 33

Man can not live by bread alone.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۳۳

دوسروں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر ایک عجیب رجحان پیدا ہوا ہے کہ ہر جگہ وہ اپنا علیحدہ پاکٹ بنانے کی تحریکیں چلا رہے ہیں جس کو پاکستانیزیشن کہا جا سکتا ہے۔ یہ رجحان ترقی کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نظریہ کا ایک عملی ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ۵۷ مسلم ممالک ہیں۔ مگر مسلمان جس تیزی سے ہندوستان میں ترقی کر رہے ہیں، ویسی ترقی کسی بھی مسلم ملک میں اب تک ممکن نہ ہو سکی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہندوستان میں دو موافق چیزیں موجود ہیں—بڑا ملک اور چیلنج۔ اور ترقی کے لیے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں۔

پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر محمد اسلم صاحب نے تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ پہلے میں سیاسی ذہن کا آدمی تھا۔ ایم ایل اے، ایم پی اور منسٹر بننے کو بڑی چیز سمجھتا تھا۔ مگر میرے ساتھ ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے میری زندگی کو بدل دیا۔ انہوں نے بتایا کہ میرے کلینک میں ایک مریض آیا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک پرچہ تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ اُس نے کہا کہ یہ ماہنامہ الرسالہ ہے۔ میں نے اس رسالہ کے صفحہ اول کی مختصر عبارت پڑھی اور پھر مجھے اُس سے دلچسپی ہوگئی۔ میں نے مریض سے وہ رسالہ لے لیا اور ایک ہی نشست میں اس کو پڑھ ڈالا۔

اس کے بعد مجھے الرسالہ سے اتنی دلچسپی ہوئی کہ میں نہ صرف اُس کا مستقل قاری بن گیا بلکہ اُس کی ایجنسی لے کر اس کو پھیلانے لگا۔ انہوں نے بتایا کہ الرسالہ کے مطالعہ نے میرا ذہن مکمل طور پر بدل دیا۔ میرا سیاسی ذہن ختم ہو گیا اور میں پر امن تعمیر کی لائن پر سوچنے لگا۔ اسی فکری انقلاب کا ایک مظہر یہ ہے کہ میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے یہ میڈیکل بنایا۔ یہ کارروائی ایک بجے تک جاری رہی۔ اس کے بعد کالج ہی کے اندر دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے کے دوران مختلف لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس کے بعد دو بجے ہمارا قافلہ کار کے ذریعہ سہارنپور سے دہلی کے لیے روانہ ہوا۔ ۲۸ نومبر کو ظہر کی نماز میڈیکل کالج کے گراؤنڈ میں بنے ہوئے پختہ چبوترہ پر ادا کی گئی۔ کے بعد ہمارا قافلہ بذریعہ کار سہارنپور سے دہلی کے لیے روانہ ہوا۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد میں نے لوگوں سے کہا کہ مومن کے لیے ہر واقعہ آخرت کی یاد دہانی ہے۔ ہم لوگ دہلی سے سہارنپور آئے اور

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page