Al-Risala · January 2005 · page

کنگ فہد سنٹر فار مڈل ایسٹ اینڈ اسلامک اسٹڈیز

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

ہو گئی ہے۔ جب کہ اس سے پہلے وہ صرف خارجی حملہ آوروں کی علامت کے طور پر دیکھی جاتی تھیں۔ چنانچہ اس جدید ضرورت کے تحت اسپین کی حکومت نے ان قدیم عمارتوں کو دوبارہ آراستہ کیا۔ ان کے اندر جو ٹوٹ پھوٹ آئی تھی ان کو مرمت کر کے اس کو از سر نو شاندار بنا دیا گیا۔ چنانچہ یہاں ساری دنیا کے سیاح کثرت سے آتے ہیں۔ سیاحت اسپین کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ ایک وسیع محل میں میں نے دیکھا کہ قدیم طرز کی شاہی گھوڑا گاڑی موجود تھی اور سیاح اُس کے اوپر بطور تفنن محل کے مختلف حصوں کا سفر کر رہے تھے۔

الطاف حسین حالی نے اسپین کے اِن ’’کھنڈروں‘‘ کے بارے میں لکھا تھا کہ اگر چہ اب وہ کھنڈر ہو چکے ہیں مگر اب بھی ان کے اندر ماضی کی شان و شوکت جھلک رہی ہے : جلال ان کے کھنڈروں میں ہے یوں چمکتا کہ ہو خاک میں جیسے کندن دمکتا حالی اور اس قسم کے دوسرے لوگوں نے ان ’’کھنڈروں‘‘ میں صرف ماضی کی بر باد شدہ عظمت کی جھلک دیکھی تھی۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک منفی نقطۂ نظر ہے۔ میں اپنے مزاج کے تحت تاریخ کو مسلم اور غیر مسلم کے خانوں میں بانٹ کر نہیں دیکھتا۔ میں تاریخ کو انسانیت کے ایک تسلسل کے روپ میں دیکھتا ہوں۔ اس لیے جب میں نے مسلم عہد کی قدیم طرز کی عمارتوں کو دیکھا اور دوسری طرف جدید طرز کی سڑکوں کے کنارے جدید طرز کی بلند بالا بلڈنگوں کو دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں انسانی ترقی کے ارتقائی عمل کو دیکھ رہا ہوں۔ میرے دل نے کہا کہ مسلمانوں نے اسپین میں ترقی کی ابتدائی بنیاد رکھی تھی ۔ بعد کے لوگ اب اس کے اوپر اس کی اگلی منزلیں تعمیر کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بنیاد کے بغیر کوئی اگلی تعمیر کھڑی نہیں کی جاسکتی۔

اشبیلیہ میں سعودی عرب کے تعاون سے ایک شاندار عمارت بنائی گئی ہے ۔ یہ گویا اسلامک کلچرل سنٹر ہے۔ اس سنٹر کا نام یہ ہے:

کنگ فہد سنٹر فار مڈل ایسٹ اینڈ اسلامک اسٹڈیز

اس ادارہ کے ڈائرکٹر سے ملاقات ہوئی ۔ ان سے عالم اسلام کے موجودہ حالات پر گفتگو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page