Anil visits Tirupati with wife and sons.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۳۴
اب سہارنپور سے دہلی جا رہے ہیں۔ یہ گویا علامتی طور پر آخرت سے دنیا میں آنا تھا اور اب ہم گویا دنیا سے آخرت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ قرآن کی زبان میں یہی تو سم ہے۔ آپ لوگوں کو چاہیے کہ آپ اپنی ذہنی تربیت اس طرح کریں کہ زندگی کے ہر تجربہ میں آپ کو خدا اور آخرت کی یاد آئے۔ آپ کو بار بار جنت اور دوزخ کا منظر دکھائی دے۔ مادی واقعات میں آپ کو روحانیت کی غذا حاصل ہو۔ آپ کو ایسا محسوس ہو گیا کہ آپ کی ملاقات بار بار اپنے رب سے ہو رہی ہے۔ آپ کے لیے ہر سفر ایک ایسا سفر بن جائے جیسے کہ آپ اپنے خدا کی طرف جا رہے ہیں۔
اس کے بعد ہم لوگوں نے حسب پروگرام آج کے اخبارات کا اجتماعی مطالعہ شروع کیا۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۸ نومبر ۲۰۰۴) میں مختلف خبریں تھیں۔ ان میں سے ایک خبر وہ تھی جس کا عنوان یہ تھا— انل امبانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مندر گئے:
Anil visits Tirupati with wife and sons.
خبر میں بتایا گیا تھا کہ ریلائنس انڈسٹری کے وائس چیرمین اور مینیجنگ ڈائرکٹر انل امبانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ تروپتی کے ونکٹیشور مندر میں گئے۔ وہاں انہوں نے یہ پرارتھنا کی کہ ان کے خاندان میں امن آئے۔ کمپنی کی اونرشپ کے بارے میں اپنے بھائی مکیش امبانی کے ساتھ انل امبانی کی نزاع پیدا ہوگئی ہے۔ ریلائنس گروپ کا سرمایہ تو نے ہزار کروڑ روپیہ ہے۔ انل امبانی مندر میں اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مندر میں یہ پرارتھنا کی کہ میرے خاندان میں امن اور عافیت قائم ہو۔ میرے باپ دھیرو بھائی امبانی کے زمانہ کی روایات خاندان میں باقی رہیں۔ انل امبانی نے حال میں اپنے بھائی مکیش امبانی کے خلاف کمپنی کا چیف بننے پر سوال اٹھایا ہے اور خود کمپنی کے چیف بننے کا دعویٰ کیا ہے۔ (صفحہ ۹)
یہ پرارتھنا (دعا) کا ہندو تصور ہے۔ ہندو مذہب میں دیوتا عملاً لوگوں کی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ لوگ اپنے دنیوی مسائل کے لیے مندروں میں جاتے ہیں۔ اسی کے اثر سے بہت سے مسلمان بھی اپنی دنیوی حاجتوں کے لیے درگاہوں میں جانے لگے ہیں۔ مگر یہ اسلام کا طریقہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues