Al-Risala · June 2005 · page 36

Anil visits Tirupati with wife and sons.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۳۶

میں نے کہا کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کے بارے میں غلط فہمی کا نہیں ہے بلکہ خود مسلمانوں کی غلط روش کا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ کچھ مسلمان عملاً تشدّد کی کارروائی میں مبتلا ہیں۔ بقیہ مسلمان ان غلط کارروائی کی مذمت نہیں کرتے اس لیے وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان کی تائید کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں موجودہ زمانہ کے سارے ہی مسلمان اسلام کی غلط نمائندگی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اب کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کی منفی سوچ اور ان کی متشدّدانہ کارروائی کو کھلے طور پر غلط بتایا جائے اور کسی عذر کے بغیر ان کی تصحیح کی جائے۔ مذکورہ قسم کا وکیلانہ انداز کچھ مسلمانوں کو خوش کر سکتا ہے مگر وہ کسی حال میں اصل مسئلہ کو حل کرنے والا نہیں۔ ایک صاحب نے سعودی عرب کے اخبار العالم الاسلامی کا شمارہ ۲۲ نومبر ۲۰۰۳ دکھایا۔ اس کے صفحہ اول کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا: تحریر فلسطین عاجلاً لا آجلاً ۔ (فلسطین کی آزادی جلد نہ کہ بدیر) یہ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی تقریر کے الفاظ تھے۔ انہوں نے اپنی ایک تقریر میں یہ کہا تھا کہ یاسر عرفات کے خواب انصاف پر مبنی تھے اور وہ خواب ضرور پورے ہوں گے، جلد نہ کہ بدیر: مادام ان احلامه بنيت على العدالة فانها ستحقق عاجلاً لا آجلا (صفحه ۱)

یہ محض ایک لفظی خطابت ہے۔ ۱۹۴۸ میں جب اسرائیل کا قیام وجود میں آیا اور صہیونی مسئلہ پیدا ہوا اس وقت عرب کے اندر اور عرب کے باہر بہت سے مقرر اور محرّر پیدا ہوئے جو اسی قسم کے الفاظ پر جوش طور پر لکھتے اور بولتے تھے۔ مگر آدھی صدی سے زیادہ مدت کی قربانی کے باوجود فلسطینیوں کا خواب پورا نہیں ہوا بلکہ حالات پہلے سے زیادہ خراب ہوگئے۔ ایسی حالت میں یہ کوئی کام نہیں کہ انہی الفاظ کو دہرایا جاتا رہے۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ آزادی فلسطین کی تحریک پر نظر ثانی کی جائے۔ اب ضرورت اس معاملہ کے ازسر نو جائزہ (re-assessment) کی ہے نہ کہ پرجوش الفاظ بول کر لوگوں کو خوش کرنے کی۔ اس دنیا میں کسی مہم کی کامیابی کی شرط امکان ہے نہ کہ انصاف۔ میں نے کہا کہ ہر شخص اپنے ذاتی معاملہ میں بار بار یہی کرتا ہے کہ جب اس کا ایک منصوبہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page