Anil visits Tirupati with wife and sons.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۳۷
نا کام ہو جاتا ہے تو وہ پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لیتا ہے۔ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ مگر جب معاملہ ملی مسئلہ کا ہو تو یہی لوگ اپنے ذاتی تجربہ کو بھول جاتے ہیں۔ ملی معاملہ میں ہر آدمی بار بار انہی الفاظ کو دہراتا ہے جو ماضی کے تجربہ میں اپنی نا کامی کو ثابت کر چکے ہیں۔ شاید لوگ ملی معاملہ میں اس طرح سنجیدہ نہیں جس طرح وہ اپنے ذاتی معاملہ میں سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ۲۸ نومبر کے تقریباً تمام اخبارات میں میرے سہارن پور کے پروگرام کی خبریں چھپی تھیں۔ یہاں ان کی تفصیل درج نہیں کی جاسکتی۔ البتہ کچھ اخبارات کی رپورٹنگ کی سرخیاں یہاں نقل کی جاتی ہیں :
کر تبوں کا بودھ کرانا ہمارا مشن (امر اجالا)
شنکر آچاریہ کے ساتھ ستمان جنگ بیو ہار ضروری (دینک ودھ مانو)
فکر انا سمیا کا سمادھان نہیں (شاہ ٹائمس)
باہمی گفتگو بابری مسجد تنازعہ کا حل نہیں (راشٹریہ سہارا)
کیوں استھانانترت نہیں ہو سکتی بابری مسجد (سہارن پور جاگرن)
واپسی کا سفر دہرہ دون روڈ کے ذریعہ طے ہوا۔ درمیان میں ہم لوگ چیتل گرائند (ریستوران) میں ٹھہرے ۔ یہاں مغرب کی نماز ادا کی گئی۔ ساتھیوں نے چائے پی۔ یہ ریستوران اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ ایک خوبصورت گارڈن معلوم ہوتا ہے۔ اس کی صفائی اور اس کے خوبصورت ماحول کی وجہ سے یہاں لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں ہی کثرت سے یہاں آتے ہیں۔ ہماری گاڑی اونچی نیچی سڑکوں پر ہلتی ہوئی چل رہی تھی اور ہماری گفتگو کا سلسلہ جاری تھا۔ میرے لیے یہ سفر ایک مصیبت کا سفر بن گیا کیوں کہ میں ایک کار سک (carsick) آدمی ہوں۔ کار میں لمبے سفر سے میرے سر میں چکر آنے لگتا ہے۔ چنانچہ اس سفر میں بھی سر کا چکر شروع ہو گیا۔ تاہم جس گاڑی سے ہمارا یہ سفر ہوا اس میں پیچھے کی طرف لیٹنے کی جگہ بنی ہوئی تھی۔ چنانچہ میں نے سفر کا زیادہ حصہ لیٹ کر طے کیا۔ لیٹنے کی صورت میں میرے چکر میں کافی کمی آ جاتی ہے۔ اس کے لیے میں
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues