کنگ فہد سنٹر فار مڈل ایسٹ اینڈ اسلامک اسٹڈیز
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
ہوئِی۔ دوسرے مسلمانوں کی طرح ان کا خیال بھی یہ تھا کہ آج کی مسلم دنیا غیر اقوام کی سازشوں کا شکار ہے۔ میں نے کہا کہ سازش کسی غیر قوم کی تخلیق نہیں وہ خود خالق کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے۔ اس دنیا میں سازش ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔ اس کے مقابلہ میں تدبیر کا انداز اختیار کرنا چاہیے نہ کہ شکایت اور احتجاج کا انداز ۔ انہوں نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے ایک نیا نقطۂ نظر ہے۔ میں اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کروں گا۔
اس کا نفرنس کو اصلاً جس ادارہ نے آرگنائز کیا اس کا نام یہ تھا: The Elijah Interfaith Institute اس ادارہ کے تعارفی پمفلٹ میں اس کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: The Elijah Interfaith Institute is dedicated to fostering peace among faith communities worldwide through interfaith dialogue, education, research and dissemination. اسپین کی اس کانفرنس میں شری روی روی شنکر بھی شریک تھے۔ ان کی ایک مخصوص فلاسفی ہے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ دنیا بھر میں ۲۰ ملین آدمی کو اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے ایک اخباری انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو میں ایک سوال یہ تھا کہ زندگی میں آپ کا مشن کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ زیادہ سے زیادہ چہرے پر مسکراہٹ لے آنا:
To put a smile on as many faces as possible. ایک سوال یہ تھا کہ جو لوگ امن اور خوشی چاہتے ہیں ان کے لیے آپ کی ایڈوائس کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا:
Get rid of stress, know that peace is there where you are and that it is in your heart. Peace is your very nature. میرے نزدیک یہ ایک مبہم جواب ہے۔ اس جواب میں سائل کو واضح رہنمائی نہیں ملتی۔ اس سے بھی زیادہ مبہم ان کا آخری سوال وجواب تھا۔ انٹرویو رنے خاتمہ پر پوچھا۔ قارئین کے لیے آپ کا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues