کنگ فہد سنٹر فار مڈل ایسٹ اینڈ اسلامک اسٹڈیز
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
آخری پیغام کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا:
اس جواب کو میں نے کئی بار پڑھا۔ مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ بظاہر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ کا حل اپنے آپ آتا ہے۔ مگر انہوں نے اس کے لیے کتے کی دم کی جو مثال دی ہے اس مثال کا کوئی تعلق اس جواب سے نظر نہیں آتا۔
تائیوان سے ایک صاحب آئے تھے جو شنٹو مذہب کے دھرم ماسٹر کہے جاتے تھے۔ ان کا نام سین تاؤ (Hsin Tao) تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تائیوان میں عالمی مذاہب کا ایک میوزیم قائم کیا ہے جس کا نام ہے (Museum of World Religions)۔ اس کا مقصد انہوں نے یہ بتایا: اسپین کا مشہور اخبار اے بی سی ڈی سیول (ABC DE Seville) ہے۔ اس کے شمارہ ۷ دسمبر ۲۰۰۳ میں کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ چھپی۔ یہ رپورٹ اسپینی زبان میں تھی۔ اس لیے میں اس کو سمجھ نہیں سکا۔ البتہ ایک چیز اس رپورٹ میں واضح تھی ۔ وہ یہ کہ میری تصویر کو انہوں نے سب سے زیادہ نمایاں انداز میں پیش کیا تھا۔ تصویر کے ساتھ اخبار نے کانفرنس کے ڈیکلریشن (Seville Declaration) کو شائع کیا تھا۔
میری اس تصویر کے بیک گراؤنڈ میں پتھر کی ایک دیوار دکھائی دیتی ہے۔ یہ مسلم دور کے ایک محل کی دیوار ہے۔ اس قسم کی قدیم عمارتیں یہاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ ان عمارتوں کو جو پہلے غیر آباد پڑی ہوئی تھیں، ان کی پھر سے تجدید کی گئی ہے اور ان میں جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ مثلاً جگہ جگہ عمدہ نشستوں کا انتظام، صاف ستھرے باتھ روم، جدید طرز کی عمدہ سڑکیں، عمارت سے متصل پارک اور باغ اور ان کے مینٹیننس کا انتظام، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues