Al-Risala · January 2005 · page

کنگ فہد سنٹر فار مڈل ایسٹ اینڈ اسلامک اسٹڈیز

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

اسپین (اندلس) میں ایک علاقے کا نام وادی الکبیر ہے۔ یہاں قدیم طرز کا ایک اونچا ٹاور ہے جس کو قلعۃ الحر کہا جاتا ہے۔ وہ باہر سے نا تراشیدہ پتھروں کا ایک اونچا ٹاور معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اندر سے اس کو جدید انداز میں آراستہ کیا گیا ہے۔ اس کو ہم نے تفصیل کے ساتھ دیکھا۔ یہ ٹاور اتنا بڑا تھا کہ اس کے ایک فلور پر کئی کئی کمرے تھے۔ اس وقت اس کو مسلم میوزیم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور وہ نوڈو فاؤنڈیشن کے زیر انتظام ہے۔ اس میں مسلم اسپین کے تمام تاریخی عمارتوں کے عمدہ ماڈل بنا کر رکھے گئے ہیں۔ مثلاً الحمراء کا ماڈل، مسجد قرطبہ کا ماڈل، وغیرہ۔ یہ ماڈل فنی اصول پر معیاری انداز میں بنائے گئے ہیں۔ اسی طرح اس میں عرب دور کے بہت سے قدیم مخطوطات رکھے ہوئے تھے۔ اس میں ساؤنڈ سسٹم اس طرح بنایا گیا تھا کہ وہاں گائڈ کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے بجائے ہر وزیٹر کو ایک ہیڈ سیٹ دیا جاتا تھا۔ اس ہیڈ سٹ کے ذریعہ وزیٹر جس ماڈل کو دیکھ رہا ہوتا اس کے بارہ میں اس کو اپنی مطلوب زبان میں معلومات ملتی رہتی تھی۔ ہیڈ سٹ کے اس طریقہ کا یہ فائدہ تھا کہ وہاں آواز کا کوئی شور نہیں تھا بلکہ ہر شخص دھیمی آواز میں اپنی مطلوب معلومات لیتا رہتا تھا۔

اس کانفرنس میں مختلف مذہبوں کے نمائندے موجود تھے۔ یہودیت کی نمائندگی کرنے کے لیے یہاں اسرائیل کے چیف ربائی شلوموامّر (Shlomo Amar) بھی شریک تھے۔ زبان اور طرز ادا کے اعتبار سے ان کی تقریر ایک اچھی تقریر کہی جاسکتی ہے۔ انہوں نے ٹکراؤ کے ماحول کو ختم کرنے کی پرزور وکالت کرتے ہوئے کہا: ہم اس دنیا میں اس لیے آئے ہیں کہ ہم مل جل کر زندگی گزاریں نہ یہ کہ آپس میں لڑ کر مر جائیں:

We are here to live together not to die together. اب سوال یہ ہے کہ یہ مقصد کس طرح حاصل ہو۔ جواب یہ ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے ذریعہ سے۔

اس کانفرنس میں پنڈت روی روی شنکر بھی شریک تھے۔ ان کے لیے ویجیٹیرین کھانے کا انتظام ان کے مقامی شاگرد کرتے تھے۔ کھانے کے وقت وہ خود اپنے ہاتھ سے میرے لیے یہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page