Al-Risala · January 2005 · page

فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

ویٹر بین کھانا لے کر آتے اور شوق کے ساتھ مجھ کو کھلاتے۔

میں یہ جانتا ہوں کہ روی روی شنکر کے نظریات درست نہیں ہیں۔ اس معاملہ میں اُن سے ایک بار تفصیل کے ساتھ میری بات بھی ہو چکی ہے۔ یہ گفتگو کئی لوگوں کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ یہ لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ میرے سوالات کا جواب دینے سے عاجز رہے۔ مگر اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ بہت مقبول گرو ہیں۔ میرے تجربہ کے مطابق، ان کی مقبولیت کا خاص سبب اُن کی خوش اخلاقی ہے۔ اس معاملہ میں غالباً شاعر کا وہ شعر درست آتا ہے جس میں اُس نے شراب خانہ میں لوگوں کی بھیڑ کا سبب یہ بتایا تھا:

فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق

۱۸ دسمبر کو کانفرنس کے تمام شرکاء اشبیلیہ سے قرطبہ لے جائے گئے۔ یہ پورا سفر سرسبز وادیوں میں طے ہوا۔ سڑک نہایت عمدہ تھی۔ درمیان میں بعض تاریخی مقامات کو دیکھنے کے لیے ہم لوگ رکے۔ اسپین کا پورا ملک، خاص طور پر اندلس تاریخی یادگاروں سے بھرا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاح لوگ نہایت کثرت سے آتے ہیں۔

اسپین کی آب و ہوا بھی بہت اچھی ہے۔ یورپ کے دوسرے ملکوں کے مقابلہ میں اسپین نسبتاً معتدل آب و ہوا کا ملک سمجھا جاتا ہے۔ راستہ میں ہم ایک مقام پر ٹھہرے۔ یہاں ایک بہت بڑی تاریخی عمارت تھی۔ یہ عمارت سیاحوں سے بھری ہوئی تھی۔ خاص طور پر لڑکے اور لڑکیاں کثرت سے دکھائی دیتی تھیں۔ مگر وہاں کوئی شور نہ تھا۔ یہ لوگ متحرک مجسموں کی طرح ادھر ادھر جاتے ہوئے نظر آتے تھے۔

یہ منظر ہندوستان کے سیاحتی مقامات سے بہت مختلف تھا۔ ہندوستان میں عام طور پر ایسے مقامات پر دو چیزیں عام ہیں۔ ایک، شور و غل، اور دوسرے، کھانے پینے کی چیزوں کے خالی پیکٹ۔ اس طرح چلتے ہوئے ہم لوگ قرطبہ پہنچے تو وہاں دوپہر بعد کا وقت ہو چکا تھا۔ قرطبہ میں بہت سی تاریخی عمارتیں ہیں مگر سب سے زیادہ مشہور مسجد قرطبہ اور مسیحی کیتھیڈرل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page