نشانِ منزل
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۱
کو وسیلہ بنا کر خدا کی قربت حاصل کرو۔ خدا سے تقرب کے لیے دوسروں کو وسیلہ بنانا سراسر قرآن کی روح کے خلاف ہے۔ اس طرح کی کسی بات کا ثبوت خود نص قرآنی میں ہونا چاہیے۔ کوئی خارجی تمثیل اس طرح کی بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔
سوال
قرآن میں ہے ’’ولکل قوم ہاد‘‘ مگر قرآن ہی کی رو سے صرف عرب ممالک میں پیغمبروں کی بعثت ثابت ہے، نہ ایشیا کے دوسرے ممالک اور نہ یورپی ممالک کا ذکر ہے، مثلاً: عراق میں تبلیغ کرتے رہے علیہ السّلام اردن میں // // لوط علیہ السّلام یمن میں // // ہود علیہ السّلام مدین میں // // شعیب علیہ السّلام شمالی عرب میں // // صالح علیہ السّلام مصر میں // // موسیٰ علیہ السّلام فلسطین میں // // وغیرہ وغیرہ۔ ہندوستان کے بدھ، رام، کرشن وغیرہ کے بارے میں بھی کئی وجہ کی بنا پر رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ اس طرح موجودہ دنیا کا بہت بڑا خطہ اور بہت ساری قومیں ایسی ہیں جن میں پیغمبر کے آنے کا ثبوت کہیں بھی نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں (عبدالاحد، بنگلور) جواب قرآن کوئی تاریخ الانبیاء نہیں ہے۔ اس لیے قرآن میں تمام نبیوں کا تذکرہ موجود نہیں۔ اس معاملہ میں صحیح بات یہ ہے کہ ہم مجمل طور پر یہ مانیں کہ ہر زمانہ میں اور ہر مقام پر خدا نے اپنے پیغمبر بھیجے، جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے۔ قرآن کا اصل مقصد انسان کو جنت کا راستہ دکھانا ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام انبیاء کی فہرست جاننا ضروری نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues