نشانِ منزل
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۲
دوسری بات یہ ہے کہ یہ سوال صرف غیر مذکور انبیاء کے بارے میں نہیں ہے۔ خالص علمی اعتبار سے دیکھا جائے تو تمام پچھلے انبیاء صرف اعتقادی شخصیتیں ہیں۔ خالص تاریخی معیار کے مطابق ، وہ ثابت شدہ نہیں۔ انبیاء کی طویل فہرست میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ ایک مستشرق نے آپ کی اس استثنائی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ محمد تاریخ کی پوری روشنی میں پیدا ہوئے:
Mohammad was born within the full light of history. اس سلسلہ میں تیسری بات یہ ہے کہ خود قرآن کے مطابق بھی یہ سوال صرف غیر مذکور انبیاء کے بارے میں نہیں ہے۔ وہ خود مذکورہ شخصیتوں کے بارے میں بھی ہے۔ مثلاً ان انبیاء کا ذکر تو قرآن میں آیا ہے مگر دیگر ضروری تفصیلات موجود نہیں۔ حتیٰ کہ کچھ بزرگ شخصیتوں کے نام بھی قرآن میں نہیں۔ مثلاً قرآن میں ایک حق پسند انسان کا ذکر رَجُل کے لفظ کے ساتھ آیا ہے مگر ان صاحب کے بارے میں اور کچھ قرآن میں مذکور نہیں (یس ۲۰)
ایسی حالت میں صحیح اور محفوظ طریقہ یہ ہے کہ اپنی ذہنی کاوش ان باتوں کے دائرہ میں محدود رکھی جائے جو قرآن میں مذکور ہیں۔ جو باتیں قرآن میں مذکور نہیں ان کے بارے میں ذہنی کاوش کرنا آدمی کو صرف کنفیوژن تک پہنچائے گا۔ وہ کسی کو یقین کے درجہ تک پہنچانے والا نہیں۔ سوال الرسالہ جولائی ۲۰۰۴ کو پڑھ کر میرے ذہن میں چند سوالات ابھرے جس نے مجھے خط لکھنے پر مجبور کر دیا۔ آپ الرسالہ کے صفحہ ۵ پر لکھتے ہیں کہ ’’ اگر انگریز ہندوستان نہ آتے تو ہندوستان ابھی کم از کم ۱۰۰ سال پیچھے ہوتا‘‘۔ مجھے آپ کا یہ جملہ بے حد شاک گزرا۔ کیوں کہ اس جملہ میں آپ نے لفظ ’’ اگر ‘‘ کا استعمال کیا ہے جو کہ خلاف شرع ہے۔ جیسا کہ خود آنجناب نے اپنی مرتب کردہ کتاب ’’ حدیث رسول ‘‘ کے صفحہ ۱۸ پر حدیث نمبر ۴۳ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے ’’ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاقتور مومن بہتر ہے کمزور مومن
‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues