فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
قرطبہ میں ہم کو سیاحت کے ڈپارٹمنٹ کی طرف سے مختلف لٹریچر دئے گئے۔ ایک پمفلٹ کے ٹائٹل پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے:
Brief Guide to the Holy Cathedral Church Former Mosque of Cordoba. اس میں بتایا گیا تھا کہ قرطبہ میں مسلم عہد سے پہلے ایک گرجا ہال (basilica) تھا۔ عبد الرحمن اول نے اس کو توڑ کر اس کی جگہ مسجد قرطبہ بنائی۔ جو پمفلٹ کے مطابق، مغربی دنیا میں پہلی مسلم عبادتی عمارت تھی۔ مسلم عہد کے خاتمہ پر عیسائی بشپ انچلو (Martin Fernandez de Angulo) کے حکم سے سولہویں صدی میں اس مسجد کو دوبارہ کیتھیڈرل میں تبدیل کیا گیا۔
اس مسجد کو میں نے تفصیل کے ساتھ دیکھا۔ یہ مسجد بہت بڑی تھی اور تعمیر کے اعتبار سے نہایت خوبصورت اور پر شکوہ انداز میں بنائی گئی تھی۔ دیکھنے کے بعد جہاں تک میں نے اندازہ کیا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ مسلم عہد کے خاتمہ کے بعد مسجد کو توڑا نہیں گیا البتہ اُس کے تقریباً نصف حصہ کو چرچ میں تبدیل کر دیا گیا اور بقیہ نصف حصہ مسجد کی صورت میں باقی رہا۔ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ اب بھی پہلے کی طرح ہے اور نہایت شاندار انداز میں بنائی گئی ہے۔ وسیع محراب پر سونے کا کام بنا ہوا تھا۔ اُس کے قریب جانے پر پابندی تھی۔
قرطبہ میں ہم کو ایک گلی میں لے جایا گیا۔ اس گلی میں کار نہیں گزر سکتی۔ یہاں پیدل جانا ہوتا ہے۔ اس گلی کے اندر ہم کو ایک گھر دکھایا گیا۔ یہ مسلم عہد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس گھر کو ایک فرانسیسی نو مسلم خاتون نے خرید لیا ہے۔ ان خاتون کا نام عائشہ ہے۔ اس گھر میں قدیم عربی انداز میں ہماری تواضع کی گئی۔
قدیم طرز کے بنے ہوئے اس گھر کے ہر حصہ میں مسلم عہد کی یادگاریں نمائش کے لیے رکھی گئی تھیں۔ لوگ دیر تک اُن کو دیکھتے رہے۔ اس گھر کو اس کی قدیم صورت پر برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ گھر صاف ستھرا تھا مگر اُس کے کمرے چھوٹے تھے۔ کھڑکیاں بہت کم تھیں۔ فرش بھی آج کل کی طرح ہموار
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues