Al-Risala · July 2005 · page 48

نشانِ منزل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۸

الرسالہ میں آتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم اسپرچول کلاس کے نام سے دہلی میں ایک ہفتہ وار کلاس چلاتے ہیں۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم اور غیر مسلم شریک ہوتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے اس کے نتائج بے حد امید افزا ہیں۔ یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو کہ اس کلاس کے ذریعہ پہلی بار یہ کوشش کی جارہی ہے کہ تعلیم یافتہ نو جوانوں کی ذہنی تعمیر کی جائے۔ اس کلاس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہی لوگ شریک ہوتے ہیں۔

آج کل ہمارے خلاف جو بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ اس کو دیکھ کر منفی رائے قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے پروپیگنڈے صرف مشن کی قوت کا اعتراف ہیں۔ اس قسم کے پروپیگنڈے کبھی کسی مشن کو روکنے والے ثابت نہیں ہوئے۔ ہمارے مشن کو بھی انشاء اللہ وہ کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔

سوال

میں حفظ کا طالب علم تھا۔ حفظ کے دوران میں نے ایک مدرسہ کو چھوڑ کر دوسرے مدرسہ میں داخلہ لیا۔ استاد صاحب نے مجھ سے کہا کہ تم کیوں مدرسہ چھوڑ رہے ہو۔ میں نے انہیں کوئی وجہ نہیں بتائی تو انہوں نے کہا کہ اگر تم بغیر کسی وجہ کے مدرسہ چھوڑ رہے ہو تو تم تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ استاد صاحب کی بات بالکل صحیح ہوئی اور میری یادداشت بہت کم ہوگئی۔ مجھے کچھ بھی یاد کرنے میں مشکل ہوتی ہے اور جلد بھول بھی جاتا ہوں اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ مدرسہ چھوڑنے کی وجہ استاد صاحب کا ڈر تھا۔ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ (عاطف، کراچی)

جواب

آپ کی یادداشت اگر کم ہوگئی ہو تو اس کا سبب ہرگز استاد صاحب کا مذکورہ قول نہیں ہے۔ کسی کے قول سے یا کسی کی بد دعا سے کسی شخص کا حافظہ ختم نہیں ہو سکتا۔ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ میرے اندازہ کے مطابق، آپ کی یادداشت پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی اور غالباً اس کی وجہ سے آپ کو دشواری پیش آرہی تھی۔ آپ کی دشواری پر پچھلے استاد نے ہمدردانہ غور نہیں کیا بلکہ آپ کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page