Al-Risala · July 2005 · page 49

نشانِ منزل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۹

سختی شروع کردی۔ اس بنا پر آپ نے پچھلا مدرسہ چھوڑ دیا۔ اب حافظہ کی کمزوری کا تجربہ جو ہورہا ہے وہ دراصل پچھلی حالت کا تسلسل ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

اس معاملہ میں غلطی آپ کی نہیں ہے بلکہ آپ کے سرپرستوں اور آپ کے اساتذہ کی ہے۔ آج کل یہ ایک عجیب رواج ہو گیا ہے کہ وہ مطلق طور پر اور بچہ کے ذہن کا اندازہ کئے بغیر لوگ اس کو تحفیظ القرآن کے مدرسہ میں ڈال دیتے ہیں۔ اس عمومی رواج کا سبب وہ بے اصل روایتیں ہیں جن میں حافظ قرآن کے بارے میں عجیب و غریب قسم کے غیر ثابت شدہ فضائل عوام میں پھیل گئے ہیں۔ حفظ بلا شبہ ایک اچھا کام ہے مگر ہر ایک کو حافظ بنانا ہر گز ضروری نہیں۔ اب ہم پریس کے دور میں ہیں۔ قرآن آخری طور پر محفوظ کتاب بن چکا ہے۔ اب اصل اہمیت تعلیم قرآن کی ہے نہ کہ تحفیظ قرآن کی۔ یہ طریقہ بلا شبہ درست نہیں کہ لوگ خود ساختہ عقائد کے تحت چھوٹے بچوں پر حفظ قرآن کا بوجھ ڈال دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کا دماغ ہمیشہ کے لیے کمزور ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص حفظ قرآن کو ضروری سمجھتا ہو تو اس کو یہ کام پختہ عمر میں پہنچنے کے بعد کرنا چاہیے ۔ نا پختہ عمر میں چھوٹے بچوں کو حفظ قرآن کرانا بلا شبہ نظام فطرت کے خلاف ہے اور جو چیز نظام فطرت کے خلاف ہو وہ کبھی مطلوب نہیں۔

میرا مشورہ ہے کہ آپ اب حفظ قرآن کا ارادہ چھوڑ دیجئے اور دوسرا کوئی کام کریں جس میں آپ کو اپنے دماغ پر زیادہ بوجھ نہ ڈالنا پڑے۔ خواہ وہ تعلیم کا کام ہو یا کوئی عملی کام۔ یہاں ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ولقد يسرنا القرآن للذكر فهل من مدكر (القمر (۱۷) قرآن کی اس آیت کا ترجمہ کچھ لوگ یہ کرتے ہیں کہ ہم نے قرآن کو یاد کرنے کے لیے آسان کر دیا ، پس ہے کوئی یاد کرنے والا۔ مفسر القرطبی نے اس رائے کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے : اى سهلناه للحفظ فهل من طالب لحفظه (۱۷/۴) مذکورہ قرآنی آیت کی یہ تفسیر درست نہیں۔ شاہ عبد القادر صاحب نے آیت کا ترجمہ درست طور پر یہ کیا ہے : اور ہم نے آسان کر دیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page