نشانِ منزل
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۵۰
اس آیت میں ذکر سے مراد نصیحت ہے نہ کہ الفاظ قرآن کو رٹ کر اس کو یاد کرنا۔ اس آیت کا کوئی تعلق اس عمل سے نہیں ہے جس کو عام طور پر تحفیظ کہا جاتا ہے۔
اس آیت میں یسرنا سے مراد سادہ طور پر سہل کر دینا نہیں ہے۔ اس سے مراد دراصل وہ چیز ہے جس کو وضوح (clarity) کہا جاتا ہے۔ یعنی قرآن کا انداز بیان فنی کتابوں کی طرح مغلق نہیں ہے بلکہ وہ ایسی کتاب ہے جس کو پڑھ کر اور جس پر غور کر کے آسانی کے ساتھ اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔ سوال میں نے بعض علماء دین سے سنا ہے کہ داڑھی کا ایک مُشت ہونا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص داڑھی بالکل نہیں رکھتا یا ایک مُشت سے کم رکھتا ہے تو وہ ہر وقت گناہ میں مبتلا رہتا ہے جب تک کہ اس کی داڑھی مکمل ایک مُشت نہ ہو جائے۔ کیا یہ بات صحیح ہے۔ (یحییٰ بن زکریا ہنگم وہار، نئی دہلی) جواب داڑھی کے معاملہ میں ایک مُشت کا مسئلہ ایک استنباطی مسئلہ ہے۔ وہ کسی نص شرعی سے ثابت نہیں۔ صحیح مسلک یہ ہے کہ آدمی کو داڑھی رکھنا چاہیے۔ مگر لمبی داڑھی ضروری نہیں۔ اس معاملہ میں میرا ذاتی مسلک یہ ہے کہ میں نے تقریباً تیس سال سے داڑھی کا ایک بال بھی نہیں کاٹا۔ مگر جہاں تک شرعی مسئلہ کا تعلق ہے، وہ وہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔
اس سلسلہ میں اصولی بات یہ ہے کہ اسلام میں اصل اہمیت فارم کی نہیں ہے بلکہ اسپرٹ کی ہے۔ آخرت میں نجات کا مسئلہ کسی فارم پر منحصر نہیں۔ اس کا فیصلہ تمام تر نیت یا داخلی کیفیت پر ہوگا۔ جو لوگ فارم پر زیادہ زور دیتے ہیں وہ شفٹ آف انفیس (shift of emphasis) کی غلطی کرتے ہیں۔
میرے نزدیک دین میں اصل اہمیت دو چیزوں کی ہے ــــ خدا کا خوف اور بندوں کی خیر خواہی۔ یہ دو صفتیں اگر نہ ہوں تو فارم اور مظاہر کی کوئی بھی مقدار آدمی کو خدا کی رحمتوں کا مستحق بنانے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues