Religion, Conflict and Peace-building
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۵۱
خبر نامہ اسلامی مرکز ۶۷۱
۱۔ امریکا میں یونیورسٹی آف ناٹرے ڈیم (Notre Dame) کے تحت ایک ادارہ قائم ہے جس کا نام یہ ہے: The Joan B. Kroc Institute for International Peace Studies اس ادارہ کے پروفیسر مسٹر اے رشید عمر ۲۴ فروری ۲۰۰۵ کو نئی دہلی میں صدر اسلامی مرکز سے ملے۔ وہ اس ادارہ کے ایک پروجیکٹ کے کوآرڈینیٹر ہیں جس کا موضوع یہ ہے:
Religion, Conflict and Peace-building
اس سلسلہ میں انہوں نے اسلام اینڈ پیس کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کے جوابات کے تحت بتایا گیا کہ اسلام کی تمام تعلیمات بالواسطہ یا براہ راست طور پر امن پر مبنی ہیں۔ اسلام میں جہاد پر امن دعوتی جدوجہد کے لیے ہے ۔ اسلام میں قتال صرف دفاع کے لیے جائز ہے اور یہ دفاع بھی صرف ایک قائم شدہ حکومت کر سکتی ہے۔ کسی غیر حکومتی تنظیم کے لیے کسی بھی حال میں مسلح جدوجہد جائز نہیں۔ آخر میں پروفیسر موصوف کو اسلامی مرکز کی امن کے موضوع پر شائع شدہ انگریزی کتابیں دی گئیں۔
۲۔ ڈاکٹر مرسیا ہر من سن (Mercia Hermansen) امریکا کی ایک نومسلم خاتون ہیں۔ انہوں نے مسلم ممالک کا سفر کر کے اسلام کی تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ شکاگو کی ایک یونیورسٹی (Loyola University) میں اسلامک اسٹڈیز کی پروفیسر ہیں۔ آج کل وہ اسلامی خلیفہ عمر فاروق پر ریسرچ کر رہی ہیں۔ وہ ۷ مارچ ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز سے نئی دہلی میں ملیں۔ انہوں نے اپنے ریسرچ کے موضوع پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹہ جاری رہی۔ اُن کو خلیفہ عمر فاروق کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا گیا۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں عمر فاروق کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ مگر یہ کارنامہ ایک شخصی فضیلت کی بات نہیں۔ اس میں دوسرے اصحاب رسول پوری طرح شریک ہیں۔ خلیفہ چہارم حضرت علی سے پوچھا گیا کہ آپ کے زمانہ میں حالات بگڑ گئے ۔ جب کہ ابوبکر و عمر کی خلافت کے زمانہ میں حالات اچھے تھے۔ اُنہوں نے جواب دیا: ان ابابکر و عمر كانا واليين على مثلى وأنا والٍ على مثلكم ۔ اس سے معلوم ہوا کہ عمر فاروق کا کارنامہ صحابہ کی وجہ سے ممکن ہوا۔ جب کہ علی بن ابی طالب کے زمانہ میں صحابہ مسلم معاشرہ میں اقلیت بن گئے تھے۔ خلیفہ عمر فاروق پر بہت سی عربی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ایک کتاب شبلی نعمانی کی الفاروق ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ ظفر علی خاں نے کیا ہے جو اس نام سے چھپا ہے: الفاروق عمر دی گریٹ۔
۳۔ عالمی سہارا ویکلی (نئی دہلی) کے نمائندہ عبدالقادر شمس نے ۲۱ مارچ ۲۰۰۵ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ امریکا کی ایک خبر کے مطابق، سوال یہ تھا کہ کیا عورت نماز کی امامت کر سکتی ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اگر صرف خواتین کی جماعت ہو تو اس کی امامت ایک خاتون کر سکتی ہے۔ لیکن اگر عورتوں کے ساتھ مرد بھی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues