Al-Risala · July 2005 · page 52

Religion, Conflict and Peace-building

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۵۲

موجود ہوں تو مردہی امامت کرے گا۔ عورتوں کی مسجد الگ بنانا اگر چہ جائز ہے لیکن اس قسم کی تفریق وسیع تر مصلحت کے اعتبار سے درست نہیں۔

۴۔ اٹلی کا نیشنل ٹی وی (RAI) کی ٹیم ۲۵ مارچ ۲۰۰۵ کو اسلامی مرکز میں آئی۔ اس نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو ر آنڈری پزی (Andrea Pezzi) تھے۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر تصوف اور اس سے متعلق مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کے آغاز میں تصوف کا لفظ موجود نہ تھا۔ قرآن میں اس کے لیے ربانی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عباسی دور میں کچھ لوگ تھے جو اون (صوف) کے کپڑے پہنتے تھے جو اس زمانہ میں سادگی کی علامت تھے۔ چنانچہ ایسے لوگوں کو صوفی کہا جانے لگا۔ بعد کو اسی سے تصوف کا لفظ بنا۔ پھر تصوف انڈیا میں آیا۔ یہاں یوگ کے اثر سے تصوف میں مزید انڈین عناصرشامل ہوئے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ سائنسی اور سیاسی دور کے بعد سوسائٹی پر صوفیوں کا اثر بہت کم ہو گیا ۔ اب تصوف زیادہ تر انفرادی سطح پر پایا جاتا ہے۔ سوسائٹی کی سطح پر اس کا کوئی قابل ذکر اثر نہیں ۔

۵۔ اسلامک سینٹر (نئی دہلی) میں اسپرچول کلاس کے نام سے ایک ہفتہ وار اجتماع ہوتا ہے۔ اس میں تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوتے ہیں۔ یہ کلاس جنوری ۲۰۰۱ سے ہر اتوار کو پابندی کے ساتھ جاری ہے۔ ہر ہفتہ صدر اسلامی مرکز کسی اسلامی موضوع پر ایک تقریر کرتے ہیں۔ اس کو کلاس کے تمام افراد اسی وقت لکھ لیتے ہیں۔ ۲۷ مارچ ۲۰۰۵ سے یہ نیا سلسلہ شروع ہوا ہے کہ مز نغمہ صدیقی تقریر کے دوران پوری تقریر کو انگریزی میں چھوٹے کمپیوٹر پر ٹائپ کرتی ہیں۔ اس طرح اس ہفتہ وار تقریر کا ریکارڈ کمپیوٹر پر تیار ہو رہا ہے۔

۶۔ بھوپال میںحلقۂ الرسالہ کی طرف سے مارچ ۲۰۰۵ کو تین روزہ اجتماع کا انتظام کیا گیا۔ اس میں مقامی لوگوں کے علاوہ دوسرے مقامات کے لوگ بھی شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مختلف پروگرام میں حصہ لیا۔ اس اجتماع کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ ۷۔ ۳ اپریل ۲۰۰۵ کو پوپ جان پال دوم کا روم میں ۸۴ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ۔ اس موقع پرائی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ پوپ جان پال دوم نہایت معتدل درجہ کے آدمی تھے۔ انہوں نے اپنے ۲۶ سالہ مدت میں اکثر ملکوں کا دورہ کیا۔ پیس اور ہارمنی کا ماحول قائم کرنے کی کوشش کی۔ خدا انہیں اپنی رحمت سے نوازے اور ان کے پیس مشن کو مکمل کرنے کا انتظام فرمائے۔

۸۔ ہندی روز نامہ پر بھات خبر (رانچی) کے نمائندہ مسٹر پر وین کمار جھانے ۱۸ اپریل ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا موضوع یہ تھا بی جے پی ۲۵ سال بعد ۔ اس موضوع پر یہ ایک تفصیلی انٹرویو تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ شروع میں بی جے پی کا یہ احساس تھا کہ اس کو ہندوؤں کے بیشتر ووٹ ملیں گے اور اس طرح وہ ہندو ووٹوں کی مدد سے مرکز میں حکومت بنا لے گی۔ مگر اس کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔ کیوں کہ نچلی ذات کے ہندو اس

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page