Religion, Conflict and Peace-building
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۵۳
سے الگ ہوگئے۔ اب بی جے پی کے لیے کامیابی کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مسلم ووٹوں کو اپنی طرف مائل کرسکے۔ لیکن مسلم ووٹوں کو حاصل کرنے کے لیے بی جے پی کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ مسلم ووٹوں کے اندر اعتماد حاصل کرے ۔ جب کہ اس سے پہلے اُس نے مسلم ووٹوں کی کوئی پروا نہیں کی تھی۔
۹۔ عقیل احمد صاحب (میرٹھ روڈ، مظفر نگر) کی پوتی کی شادی ۹ اپریل ۲۰۰۵ کو ہوئی ۔ اس موقع پر گریٹر نائیڈا کے ہیریٹج کلب میں نکاح کی تقریب ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موقع کی مناسبت سے کامیاب ازدواجی زندگی پر ایک تقریر کی۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انہوں نے بتایا کہ کامیاب ازدواجی زندگی کا راز قرآن کے الفاظ میں الصلح خیر ہے۔ یعنی اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے مل جل کر رہنا۔ اسی میں دنیا کا بھی فائدہ ہے اور آخرت کا بھی۔ اختلاف فطرت کا ایک حصہ ہے۔ اختلاف کا حل ہے : One has the art of difference management rather than art of eliminating the differences. ۱۰۔ سائی انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ۲۰ اپریل ۲۰۰۵ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع تھا: بیسک ہیومن ویلیوز ان اسلام۔ اس میں اسکولوں کے پرنسپل حضرات شریک ہوئے ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی ۔ اس کے بعد آدھ گھنٹہ سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ جن انسانی قدروں پر کلام کیا گیا وہ یہ تھیں :
Truthfulness, Honesty, Justice, Equality, Compassion, Tolerance, Modesty, Generosity, Forgiveness, Admitting Mistake. ۱۱۔ دور درشن کی ایک ٹیم نے ۲۱ اپریل ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کی تقریر ریکارڈ کی ۔ یہ تقریر سیرت رسول کے بارے میں تھی۔ اس تقریر میں سیرت کے عمومی انسانی پیغام کو بتایا گیا۔
۱۲۔ دور درشن (نئی دہلی) پر ۲۲ اپریل ۲۰۰۵ کو ۱۲ ربیع الاول کے موقع پر میلاد النبی کا پروگرام تھا۔ اس میں لائیو ٹیلی کاسٹ کے تحت صدر اسلامی مرکز کی ۱۰ منٹ کی تقریر نشر کی گئی۔ اس میں انہوں نے پیغمبر اسلام کی سیرت پر کلام کیا۔ خاص طور پر یہ بتایا کہ آپ اخلاقیات کی تکمیل کے لیے مبعوث کیے گئے۔
۱۳۔ ٹوٹل ٹی وی (نئی دہلی) نے یکم مئی ۲۰۰۵ کو لائیو ٹیلی کاسٹ کے تحت صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو نشر کیا۔ یہ انٹرویو نکاح اور طلاق کے بارے میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نابالغ لڑکی کے نکاح کے بارے میں مسلمانوں کو الگ سے کسی فتویٰ کی ضرورت نہیں۔ اس معاملہ میں جو ملکی قانون ہے وہی دوسری لڑکیوں کے ساتھ مسلم لڑکیوں پر بھی قابلِ انطباق ہونا چاہیے۔
۱۴۔ انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (انیکسی) میں یکم مئی ۲۰۰۵ کو گڈ ورڈ بکس کی طرف سے صدر اسلامی مرکز کے ایک
‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues