Al-Risala · January 2005 · page

فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

نہ تھا۔ گھر کے افراد میں کوئی عربی جاننے والا نبیس ملا۔ یہ لوگ اپنی زبان بولتے تھے۔ اسی کے ساتھ وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی بھی بول سکتے تھے۔ تاہم ترجمان نے یہ کمی پوری کر دی۔ قرطبہ ایک قدیم شہر ہے جو اندلس کے علاقہ میں واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بائبل میں ترشیش (Tarshish) کے نام سے جس بستی کا ذکر ہے وہ یہی قرطبہ ہے۔ قرطبہ ۱۵۲ ق م میں رومی نوآبادیات کے طور پر قائم کیا گیا۔ جولیس سیزر (Julius Ceaser) نے ۴۵ ق م میں اس شہر پر حملہ کیا اور وہاں کے بیس ہزار افراد کو مار ڈالا۔ لوکان (Lucan) اور بشپ ہاسیس (Hosius) اسی قرطبہ میں پیدا ہوئے جنہوں نے شاہ قسطنطین کو مسیحی بنانے میں اہم رول ادا کیا۔

قرطبہ میں مسلمانوں کی حکومت ۷۵۶ سے ۱۲۳۶ تک رہی۔ عبدالرحمن اول نے ۷۵۶ میں قرطبہ کو اپنی اپنی سلطنت کی راجدھانی بنایا۔ مسجد قرطبہ کی بنیاد اسی عبدالرحمن اول نے رکھی جس کو اس کے جانشینوں نے ۷۹۷ میں مکمل کیا۔ اموی سلطنت کے زمانہ میں قرطبہ یورپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر سمجھا جاتا تھا۔

اُس زمانہ میں قرطبہ مشرق و مغرب کے لیے علم کا مرکز بن گیا تھا۔ اس نسبت سے میں تقریباً ہر دن قرطبہ کو یاد کرتا ہوں ۔ اس لیے کہ قرطبی علماء کی دوسری کتابوں کے علاوہ میرے پاس ابو عبداللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی (وفات ۶۷۱ھ) کی عربی تفسیر الجامع لأحکام القرآن موجود ہے جس کو میں تقریباً روزانہ دیکھتا ہوں۔ یہ تفسیر ہیں جلدوں میں ہے اور جامع تفسیروں میں شمار ہوتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر یہ تفسیر کافی پسند ہے۔ یہ تفسیر مجھے ایک عرب شیخ نے تحفہ میں دی تھی۔ سید رشید رضا نے اپنی کتاب میں مسلم اسپین کی شان و شوکت بتاتے ہوئے لکھا ہے: ’’شہر قرطبہ کا تصور کیجیے جسے ’’یورپ کی دلہن‘‘ کہنا بجا ہوگا۔ یہاں کی جامع مسجد کی وسعت کا اندازہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ اس کے اندرونی حصے میں پچاس ہزار اور صحن میں تیس ہزار لوگ آسانی سے نماز پڑھ سکتے تھے۔ جامع مسجد کے علاوہ باقی مسجدوں کی تعداد سات سو تھی‘‘۔ جوش اور فخر سے بھری ہوئی اس قسم کی سطروں کے بعد سید رشید رضا لکھتے ہیں:

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page