Religion, Conflict and Peace-building
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۵۴
خصوصی لکچر کا اہتمام کیا گیا۔ اس کا موضوع تھا: یونیورسل میسیج آف قرآن۔ یہ دو گھنٹہ کا پروگرام تھا۔ اس میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ قرآن کا یونیورسل میسیج کیا ہے۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سامعین میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔
۱۵۔ ہندی روزنامہ پر بھات خبر (رانچی) کے نمائندہ مسٹر پروین کمار جھانے ۲ مئی ۲۰۰۵ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اُن کے سوالات کا تعلق زیادہ تر ماڈل نکاح نامہ سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ جاننے والوں کو پہلے سے یہ بات معلوم تھی کہ ماڈل نکاح نامہ عملاً چلنے والا نہیں۔ اسی لیے اب بورڈ کے لوگوں نے اس کو آپشنل نکاح نامہ کہا ہے۔ پھر ایسے نکاح نامہ سے کیا فائدہ۔ دوسری بات یہ کہ مسلم سماج میں جو اصل کمی ہے وہ تعلیم کی کمی ہے۔ تمام درد مند لوگوں کو چاہیے کہ وہ مسلم سماج کو تعلیم میں آگے ائیں۔ اس کے بعد تمام مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے۔ تیسری بات یہ کہ عورتوں کی جو مانگیں ہیں ان کے معاملہ میں کڑارویہ اپنا نا مسئلہ کا حل نہیں ۔ اس کے بجائے ان مانگوں پر نرم رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
۱۶۔ ہندی روزنامہ ہندوستان (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر فضل غفران نے ۴ مئی ۲۰۰۵ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو ماڈل نکاح نامہ کے حوالے سے تھا۔ جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ اس قسم کا نکاح نامہ کبھی چلنے والا ہی نہیں۔ حتیٰ کہ بنانے والے گھروں میں بھی وہ نہیں چل سکتا۔ مسلم سماج کی اصل کمی یہ ہے کہ وہ تعلیم میں پچھڑی ہوئی ہے۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ وہ کوئی ٹھوس کام کریں۔ وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کو ختم کرکے مسلم تعلیمی بورڈ بنائیں۔ ۱۷۔ ہندی روزنامہ ویر ارجن (نئی دہلی) کے نمائندہ ویر اکرم سنگھ نے ۶ مئی ۲۰۰۵ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ماڈل نکاح نامے سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس قسم کا نکاح نامہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔ کیوں کہ اس کے پیچھے نہ لوگوں کا اتفاق رائے ہے اور نہ اس کی پشت پر کوئی تنفیذی طاقت ہے۔ اسی لیے خود ماڈل نکاح نامہ بنانے والوں نے اس کو آپشنل (اختیاری) قرار دے دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ آپشنل ہے تو پھر اس کو وضع کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یا تو مسلم عوام کے اندر شعوری بیداری لائی جائے، یا حکومت سے مطالبہ کرکے اس کے موافق ایکٹ بنوا یا جائے، جیسا کہ شاہ بانو کے معاملے میں کیا گیا تھا۔ ۱۸۔ ہندی روزنامہ مہا مے دھا (نئی دہلی) کے سب ایڈیٹر مسٹر سنجے کمار نے ۷ مئی ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ماڈل نکاح نامہ سے تھا جس کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے تیار کیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ ایک ایسا کام ہے جو بے فائدہ بھی ہے اور نا قابل عمل بھی۔ نکاح اسلام میں ایک سادہ عمل ہے۔ لڑکا اور لڑکی کے درمیان ایجاب و قبول اور اس کے اعلان سے شرعی نکاح واقع ہو جاتا ہے۔ اس معاملہ میں جو خرابیاں پیدا ہوئی ہیں وہ مسلم سماج کی پیدا کی ہوئی ہیں، نہ کہ شریعت کی پیدا کی ہوئی۔ اس لیے اس معاملہ میں کرنے کا کام یہ ہے کہ ماڈل مسلم سماج بنایا جائے، نہ کہ ماڈل نکاح نامہ۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ مسلم سماج تعلیمی پس ماندگی کا شکار ہے۔ تعلیم سے سوجھ بوجھ بڑھ آتی ہے۔ معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ مسلم سماج کو تعلیم یافتہ سماج بنایا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues