Al-Risala · August 2005 · page

وفي كل شئ له آية تدل على أنه واحد

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

مومن عورتوں کو قرآن میں السائحَات (التحریم (۵) کہا گیا ہے۔ یعنی سفر کرنے والے مرد اور سفر کرنے والی عورتیں۔

اس سے مراد مجرد سفر نہیں ہے بلکہ اس سے مراد صاحبِ ایمان کا سفر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ السائحون اور السائحَات سے مراد وہ مومنین اور مومنات ہیں جن کا سفر ان کی ربانی سوچ کی بنا پر معرفت کا سفر بن جائے۔ سفر کے دوران جو تخلیقی مشاہدات اُن کے سامنے آئیں، وہ اُن کے مومنانہ ذہن کی بنا پر اُن کے لیے معرفتِ حق میں ڈھلتے چلے جائیں۔ وہ مخلوق میں خالق کا جلوہ دیکھیں ۔ وہ فطرت کے مظاہر میں خالق کے کرشموں کا ادراک کریں۔ اسی حقیقت کو ایک عربی شاعر ابو العتاہیہ نے اس طرح بیان کیا ہے:

وفي كل شئ له آية تدل على أنه واحد

اس معاملہ کو ایک فارسی شاعر نے مزید وضاحت کے ساتھ اس طرح نظم کیا ہے:

برگ درختان سبز در نظر ہوشیار ہر ورقے دفترے است معرفت کردگار اس طرح بات کرتے ہوئے ہم لوگ ائیر پورٹ پہنچے۔ یہاں میں نے لوگوں کو ایک سبق آموز بات یاد دلائی۔ میں نے کہا کہ اس سفر میں مجھ کو اور میری لڑکی فریدہ کو چھوڑ کر کل گیارہ مرد اور عورتیں ہیں۔ یہ تعداد بہت معنی خیز ہے۔ مماثلت کے انداز میں اس کے اندر ایک اہم سبق پایا جاتا ہے۔ اگر آپ انجیل کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ آخر وقت میں حضرت مسیح کے ساتھ (مسیح اور مریم کو چھوڑ کر) گیارہ افراد تھے۔ انہی گیارہ افراد نے مسیح کے پیغام کو ساری دنیا میں پھیلایا۔ اس سلسلہ میں انجیل کا اقتباس یہ ہے:

پھر وہ اُن گیارہ کو بھی جب کھانا کھانے بیٹھے تھے دکھائی دیا اور اُس نے ان کی بے اعتقادی اور سخت دلی پر ان کو ملامت کی ۔ کیوں کہ جنہوں نے اُس کے جی اُٹھنے کے بعد اُسے دیکھا تھا انہوں نے اُن کا یقین نہ کیا تھا۔ اور اُس نے ان سے کہا کہ تم تمام دنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو۔ جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائے گا اور جو ایمان نہ لائے وہ مجرم ٹھہرایا جائے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page