Al-Risala · August 2005 · page

وفي كل شئ له آية تدل على أنه واحد

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

گا۔ اور ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے۔ وہ میرے نام سے بدروحوں کو نکالیں گے۔ نئی نئی زبانیں بولیں گے۔ سانپوں کو اٹھالیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پئیں گے تو انہیں کچھ ضرر نہ پہنچے گا۔ وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو اچھے ہو جائیں گے (مرقس، ۱۶: ۱۲-۱۸) عجیب بات ہے کہ اس تاریخی سفر میں میرے ساتھ میری لڑکی کو چھوڑ کر گل گیارہ افراد تھے۔ یہ گیارہ افراد در اصل علامتی انداز میں نمائندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ مشن اب اللہ کے فضل سے ایک عالمی مشن بن چکا ہے۔ دنیا کے اکثر حصوں میں اس سے وابستہ افراد موجود ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق، ان کی تعداد گیارہ ہزار سے کم نہ ہوگی۔ یہ عالمی حلقہ اب اللہ کے فضل سے ایک طاقتور حلقہ بن چکا ہے۔ مزید یہ کہ اس کی پشت پر ایک طاقتور لٹریچر وجود میں آچکا ہے۔ یہ حلقہ اور یہ لٹریچر انشاء اللہ اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ مشن مسلسل جاری رہے۔ بھوپال کے لیے میرا پہلا سفر غالباً ۴۰ سال پہلے ہوا تھا۔ اس وقت میں ٹرین کے ذریعہ تنہا بھوپال گیا تھا۔ اب میں بھوپال جا رہا ہوں تو ہمارا سفر ایک قافلہ کی صورت میں ہو رہا ہے جس میں مجھ کو لے کر تیرہ آدمی ہوائی جہاز کے ذریعہ بھوپال جا رہے ہیں۔

یہ واقعہ علامتی طور پر ہمارے مشن کی رفتار ترقی کو بتا رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۴۰ سال میں یہ مشن کہاں سے کہاں تک پہنچا ہے۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ کوئی جاندار مشن کبھی درمیان میں نہیں ٹھہرتا۔ وہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے مشن کے ساتھ انشاء اللہ یہی تاریخ دہرائی جائے گی۔ جیسا کہ لوگ جانتے ہیں، اس دوران میں ہمارے مشن کو نقصان پہنچانے کے لیے بڑی بڑی مخالفانہ کوششیں کی گئیں۔ مگر یہ کوششیں ناکام رہیں اور مشن آگے بڑھتا رہا، وہ ایک دن کے لیے بھی نہیں رکا۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی مشن جب رکتا ہے تو وہ کسی خارجی رکاوٹ کی بنا پر نہیں رکتا۔ ایسا ہمیشہ خود مشن کی داخلی کمزوری کی بنا پر ہوتا ہے۔ جو مشن جذباتیت یارومانیت کے زیر اثر اٹھایا جائے وہ کبھی دیر تک قائم نہیں رہتا۔ لیکن جو مشن حقائق فطرت کی بنا پر اٹھایا جائے وہ ایک سیل رواں کی مانند ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page