Al-Risala · August 2005 · page

وفي كل شئ له آية تدل على أنه واحد

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

کوئی چٹان بھی اس کا راستہ روکنے والی نہیں۔

راستہ میں مختلف سوالات پر گفتگو جاری رہی۔ ایک سوال یہ تھا کہ عورت کا درجہ اسلام میں کیا ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے قرآن کے حوالہ سے کچھ باتیں کہیں۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وللر جال عليهن درجة (البقرہ ۲۲۸) اسی طرح فرمایا: الرجال قوامون علی النساء (النساء ۳۴) قرآن کی ان آیتوں کی تشریح کچھ لوگ اس طرح کرتے ہیں گویا کہ اسلام میں مرد کو حاکم کا درجہ دیا گیا ہے اور عورت کو محکوم کا درجہ۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ یہ بات بجائے خود درست ہے کہ دونوں جنسوں کے درمیان فرق رکھا گیا ہے۔ مگر اس فرق کی بنیاد امتیاز نہیں ہے بلکہ صرف انتظام ہے۔ یہ انتظامی تقسیم ہے نہ کہ امتیازی تفریق۔

یہ ایک انسانی ضرورت ہے کہ اجتماعی سرگرمیوں کو ایک ناظم کی ماتحتی میں انجام دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر اجتماعی ادارہ میں ایک باس (Boss) ہوتا ہے۔ اس باس کی حیثیت انتظام کار کی ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو پورے ادارہ میں انار کی پھیل جائے اور کام کو منظم طور پر انجام دینا ممکن نہ رہے۔ اسی طرح خاندانی ادارہ میں مرد کو انتظام کار کا درجہ دیا گیا ہے۔ تاہم وہ مطلق نہیں ہے۔ بوقت ضرورت عورت بھی انتظام کار بن سکتی ہے۔

ایک ساتھی نے کیوٹی وی (Q.T.V) کے بارہ میں میری رائے پوچھی۔ میں نے کہا کہ پچھلے ایک مہینہ کے دوران میں نے کیوٹی وی کو مسلسل دیکھا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کیوٹی وی چوبیس گھنٹہ آتا ہے۔ اس لیے آپ رات دن میں کسی بھی وقت اُس کو دیکھ سکتے ہیں۔ مگر میری رائے کیوٹی وی کے بارہ میں اچھی نہیں۔ میں نے کہا کہ ٹی وی کے دوسرے چینل اگر سیکولر انٹرٹینمنٹ کے اصول پر چلائے جا رہے ہیں تو کیوٹی وی ریلیجس انٹرٹینمنٹ کے اصول پر چلایا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں دوسری بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ کیوٹی وی اسلام کی ایک کمتر صورت (reduced form) کو پیش کرتا ہے۔ اس کو برابر دیکھنے والا شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھے گا کہ اسلام کچھ رسوم (rituals) اور کچھ آداب (etiquettes) کا مجموعہ ہے۔ ایک اور چیز جو کیوٹی وی میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page