Al-Risala · August 2005 · page

وفي كل شئ له آية تدل على أنه واحد

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

شدت سے محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ درگاہی کلچر کو اس میں اس طرح نمایاں طور پر مسلسل دکھایا جاتا ہے جیسے کہ وہ اسلام کا ایک اہم حصہ ہو۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ درگاہی کلچر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ کیوٹی وی کے سارے پروگرام مسلم اورینٹیڈ(Insan (Muslim Oriented) ہوتے ہیں۔ حالاں کہ قرآن کا پیغام مکمل طور پر انسان اورینٹڈ (Insan Oriented) ہوتا ہے۔ گویا کہ کیوٹی وی اسلام کو ایک کمیونل کلچر کے طور پر پیش کر رہا ہے نہ کہ یونیورسل کلچر کے طور پر۔ دہلی سے بھوپال کا سفر جٹ ایرویز کے ذریعہ ہوا۔ جٹ ایرویز ایک پرائیویٹ ایرویز ہے۔ پرائیویٹ کمپنیوں میں اس کو سب سے بڑی کمپنی بتایا جاتا ہے۔ انڈیا میں جب سے پرائیویٹ کمپنیاں آئی ہیں، ہوائی سفر کا معیار کافی بہتر ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے صرف ایک سرکاری کمپنی تھی ۔ اس وقت ہوائی سفر میں مقابلہ کا ماحول نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مقابلہ ترقی کی لازمی شرط ہے۔ مقابلہ (competition) نہیں تو ترقی بھی نہیں۔

عجیب بات ہے کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے کانگریس اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جو لیڈر ابھرے، دونوں ہی بظاہر اس حقیقت سے بے خبر تھے۔ دونوں ہی مقابلہ کے بجائے تحفظ (protection) کے اصول کو کامیابی کا ذریعہ سمجھا۔ دونوں میں فرق صرف یہ تھا کہ کانگریس کے لیڈر سیکولر تحفظ کی بات کرتے تھے اور مسلم لیگ کے لیڈر ملی تحفظ کی اصطلاح میں سوچ رہے تھے۔ کانگریسی لیڈروں نے آزاد انڈیا میں اقتصادی تحفظ کے نام پر بیرونی ملکوں کو ہندوستان میں داخل ہونے سے روک دیا۔ مثلاً کارسازی کی صنعت میں ایمبیسیڈر کار کے سوا کسی بیرونی کمپنی کو نہ کار بنانے کی اجازت تھی اور نہ کار کو امپورٹ کرنے کی اجازت۔ اس پالیسی کا نتیجہ ملک کو اقتصادی پچھڑے پن کی صورت میں ملا۔ اسی طرح مسلم لیگ کے لیڈروں نے پاکستان کے نام سے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ خطہ بنایا تا کہ وہ مسلمانوں کو بیرونی اثرات سے پاک رکھ سکیں ۔ یہ لوگ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ ترقی کا راز تحفظ اور علیحدگی میں نہیں بلکہ مقابلہ اور انٹریکشن میں ہے۔ اس غیر فطری پالیسی کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ پاکستان دنیا کے نقشہ میں صرف ایک پچھڑا ہوا ملک بن کر رہ گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page