Al-Risala · January 2005 · page

فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵

”جب میں غرناطہ کے الزمرا محل کو دیکھنے گیا تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی، گویا میں نے محل نہیں دیکھا بلکہ ایک مکمل شہر دیکھا۔ اس کی لمبائی نو سو میٹر اور چوڑائی آٹھ سو میٹر تھی۔ اہلِ ہسپانیہ اس محل کو ”شہرِ زہراء“ کے نام سے پکارتے ہیں۔

اگر ہم دوسرے شہروں کو چھوڑ کر صرف غرناطہ ہی کو لے لیں جو یورپ میں مسلمانوں کی سب سے چھوٹی سلطنت کا دار الخلافہ تھا تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ پندرہویں صدی عیسوی تک یورپ میں اتنا عظیم الشان اور بارونق شہر کوئی نہ تھا۔ جس زمانے میں ہسپانیوں نے اس شہر کو فتح کیا تھا، اس کی آبادی پچاس ہزار تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ تمام یورپ میں ایک بھی ایسا شہر نہ ملتا جو غرناطہ کی نصف آبادی ہی کے برابر ہوتا۔ پھر الحمراء کے عظیم الشان محل کی طرف توجہ کیجئے ۔ اس کی تعریف میں صرف اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ تمام روئے زمین پر اس کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ “ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلم رہنما اسی قسم کی بات لکھتے اور بولتے رہے ہیں۔ مگر یہ طریقہ خود مسلمانوں کے لیے سخت تباہ کن ہے۔ یہ لوگ مشترک طور پر یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ قدیم یورپی قوموں کا تقابل قدیم مسلمانوں سے کر کے مسلمانوں کو فخر کی غذا دیتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس صحیح طریقہ یہ ہے کہ قدیم عہد کی مسلم ترقیوں کا تقابل جدید یورپ کی ترقیوں سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قدیم مسلمان آج کی یورپی ترقی سے اتنا ہی پیچھے ہیں جتنا کہ قدیم زمانہ میں دوسری قومیں مسلمانوں سے پیچھے تھیں ۔ سید رشید رضا اور دوسرے لوگوں کے تقابل میں یہ غلطی ہے کہ وہ مسلم تاریخ کے زمانہ اختتام کو لے رہے ہیں اور یورپی تاریخ کے زمانہ آغاز کو۔ یہ ایک غیر منصفانہ تقابل ہے۔ ایسا تقابل دین کے خلاف بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔ یہ غلط تقابل مسلمانوں کے لیے سخت تباہ کن ہے۔ غلط تقابل سے آج کے مسلمانوں کو فرضی فخر کی غذا ملتی ہے۔ وہ غیر حقیقی طور پر پدرم سلطان بود کی فرضی نفسیات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس

‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues

Printed page