Al-Risala · August 2005 · page

وفي كل شئ له آية تدل على أنه واحد

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

جہاز کے اندر مختلف اخبارات مطالعہ کے لیے موجود تھے۔ یہاں بعض اخبارات سے کچھ سبق آموز خبروں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

ٹائمس آف انڈیا (۱۱ مارچ ۲۰۰۵) کے صفحہ اول پر ایک خبر کی تعجب خیز سرخی تھی: دلائی لامہ نے تبتیوں سے کہا کہ وہ آزاد تبت کو بھول جائیں : چین ہمارے مستقبل کے لیے سب سے بہتر ہے : Dalai Lama tells his folk to forget free Tibet: China best for our future. خبر میں بتایا گیا تھا کہ تبتیوں کی اپرائزنگ (uprising) کی ۴۶ ویں سالگرہ کے موقع پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ تبتی آزاد تبت کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں اور چین تبتیوں کی ترقی اور مستقبل کے لیے سب سے اچھا ملک ہے :

The Dalai Lama told Tibetians to give up their dream of an independent Tibet, saying he believed “China is best for Tibetan's progress and future”. (p. 1)

پچھلے ۴۵ سال سے تبتی لوگ چین کے خلاف باغیانہ تحریک چلائے ہوئے تھے۔ ہندستان کے تعاون سے دلائی لامہ نے دھرَم شالہ میں اپنی جلاوطن حکومت (government-in-exile) بنائی تھی ۔ تبتیوں کا نعرہ تھا کہ تبت ہمارا ملک ہے اور ہم اس کو چین سے آزاد کرائیں گے اور وہاں اپنا قومی جھنڈا لہرائیں گے۔ اس باغیانہ تحریک کے نتیجہ میں تبتیوں کو بے شمار نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم تبتی لیڈر شپ کی یہ بات قابل تعریف ہے کہ اس نے معاملہ کا ازسرنو جائزہ لیا اور حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ چین سے لڑائی کو ختم کردیں اور چین کے سیاسی ڈھانچہ میں اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ دلائی لامہ نے کہا کہ ہم نے یہ طے کیا ہے کہ ہم درمیانی راستہ اختیار کریں گے : We remain fully committed to the middle way approach of not seeking independence for Tibet and are willing to remain within the People's Republic of China. یہ خبر بہت سبق آموز ہے۔ اس خبر کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان بھی مختلف

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page