Al-Risala · August 2005 · page

Japan offers to build airport

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

مقامات پر ٹھیک اسی قسم کی صورت حال سے دوچار ہیں۔ وہ بہت سے ملکوں میں انصاف اور اپنے حقوق کے نام پر متشددانہ جدوجہد چھیڑے ہوئے ہیں اور اس کو جہاد بتاتے ہیں۔ مگر لمبی مدت تک جان و مال کی قربانی دینے کے باوجود وہ مثبت معنوں میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اُن کے خود ساختہ جہاد کے نتیجہ میں اُنہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

بدھسٹ لیڈر کے ساتھ بھی یہی واقعہ پیش آیا۔ مگر نصف صدی کے ناکام تجربہ کو دیکھ کر انہوں نے اپنی رائے بدلی اور تمام اندیشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کھلے طور پر اعلان کیا کہ اب ہم ٹکراؤ کا طریقہ ختم کر کے مصالحت کا طریقہ اختیار کریں گے۔ تاکہ اپنی قوم کو مزید تباہی سے بچائیں اور ممکن دائرہ میں اپنی ترقی کا نیا دور شروع کر سکیں ۔ مگر مسلم لیڈروں میں سے کوئی بھی اس دانش مندانہ سیاست کا ثبوت نہ دے سکا۔ وہ اپنی تباہ کن جنگ کو اس آخری حد تک لے گئے کہ خود کش بمباری کر کے اپنی تباہی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان مسلم لیڈروں نے خود ساختہ طور پر ایک نظریہ ایجاد کیا ہے ۔ وہ یہ کہ مسلمان لڑائی میں مارے جائیں تو یہ ان کے لیے کوئی نقصان کی بات نہیں ۔ کیوں کہ وہ مرتے ہی سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ یہ بلاشبہہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ قرآن وحدیث میں اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ مگر مسلم نو جوانوں کے ذہن میں یہ مفروضہ اس طرح بھر دیا گیا ہے کہ اب وہ پروانوں کی طرح جنگ کی آگ میں کود رہے ہیں۔ اگر چہ پیشگی طور پر انہیں معلوم ہے کہ اس اقدام کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ میرے نزدیک یہ بلاشبہہ خسر الدنیا والاخرة کا مصداق ہے۔ ہندوستان ٹائمز (۱۱ مارچ ۲۰۰۵) کے صفحہ ۹ کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا۔ کلکتہ ائرپورٹ کو انٹرنیشنل معیار پر بنانے کے لیے جاپان کی پیش کش :

Japan offers to build airport

خبر میں بتایا گیا تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہندوستان کے ائر پورٹوں کو بین اقوامی معیار پر لانا ضروری ہے۔ یہ کام پچھلے کئی برسوں سے خاموشی کے ساتھ ہو رہا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page