Al-Risala · August 2005 · page

Adventure in altitude

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

ہے۔ دہلی کی شاندار میٹرو (Metro) کو مکمل طور پر جاپان نے بنایا ہے۔ دہلی کی ایک اچھی سڑک جو آشرم سے نوئیڈا جاتی ہے وہ بھی جاپان کی بنائی ہوئی ہے۔ بیرونی مدد سے اس طرح کے کام پورے انڈیا میں خاموشی کے ساتھ ہورہے ہیں۔

اس خبر کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ یہی کام ۱۹۴۷ سے پہلے انگریز اس ملک میں کر رہے تھے۔ وہ ملک کے ہر شعبہ کو جدید معیار پر ترقی دے رہے تھے۔ نو آبادیاتی دور میں ترقی کا یہ کام انگلستان کے بعد سب سے زیادہ انڈیا میں ہورہا تھا۔ مگر اس وقت ہمارے سیاسی لیڈروں نے اس کو اقتصادی غلامی سے تعبیر کیا۔ اب یہی اقتصادی غلامی زیادہ بڑے پیمانہ پر دوبارہ اس ملک میں جاری ہے۔ مگر اب اس کو بین اقوامی تعاون کا نام دے دیا گیا ہے۔

جیٹ ایرویز کے فلائٹ میگزین کا نام جٹ ونگس (Jetwings) ہے۔ اس کا شمارہ مارچ ۲۰۰۵ دیکھنے کا موقع ملا۔ اس شمارہ میں رنگین تصویروں کے ساتھ ایک مضمون شامل تھا۔ رائٹر کا نام سونتا کٹاریا (Sonita Kataria) تھا۔ اس مضمون میں ایک پہاڑی سفر کی روداد درج تھی۔ اس کا عنوان یہ تھا۔ بلندیوں پر چڑھنے کی مہم:

Adventure in altitude

اس مضمون میں کُلو (Kullu) کی پہاڑیوں میں سفر کا ذکر تھا۔ کُلو ہمالیہ کے کو ہستانی سلسلہ کا ایک حصہ ہے۔ وہ سر سبز وادیوں اور اونچے نیچے راستوں میں واقع ہے۔ اس کو ہستانی سلسلہ میں سفر بظاہر ایک پر مشقت سفر ہے۔ مضمون نگار کو ان پر مشقت مراحل سے گزرنا پڑا۔ مگر مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اس سفر میں ایک کے بعد ایک فتح یابی کا احساس ہوتا رہا اور یہ احساس مجھے برابر آگے بڑھاتا رہا۔ مجھے برابر خوشی کا غیر معمولی احساس ہوتا رہا:

But there was a sense of achievement that kept me going. At the end of the trek, I had a tremendous feeling of joy and accomplishment. (p. 84)

زندگی کے سفر میں یہی احساس کسی عورت یا مرد کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ اگر آدمی حال کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page