Adventure in altitude
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
بجائے مستقبل پر نظر رکھے تو اُس کو بار بار یہ احساس ہوتا رہے گا کہ میں نے ایک منزل اور طے کرلی۔ میں کامیابی کی منزل کی طرف کچھ اور آگے بڑھا۔ یہ احساس اس کی ہمت بڑھاتا رہے گا۔ وہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ درمیان میں رُکے بغیر اپنا سفر جاری رکھ سکے۔
پرواز شروع سے آخر تک ہموار تھی۔ دہلی سے بھوپال تک کی یہ مسافت ڈیڑھ گھنٹہ میں طے ہوئی ۔ سروس ہر اعتبار سے اطمینان بخش تھی۔ البتہ بھوپال ایئر پورٹ پر لینڈنگ زیادہ اچھی نہ تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کہ جہاز اچانک زمین پر گر پڑا ہو۔
جہاز میں ایک بڑے انگریزی اخبار کے ایک جرنلسٹ بھی سوار تھے۔ ایئر پورٹ پر جہاز کی رَف لینڈنگ پر اُنہیں غصہ آگیا۔ وہ کسی جھجھک کے بغیر جہاز کے پائلٹ کے پاس گئے اور اُس سے جرأت مندانہ انداز میں پوچھ گچھ کی۔ گفتگو کے وقت ایک ایئر ہاسٹس وہاں کھڑی ہوئی تھی۔ اُس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اصل یہ ہے کہ آج صبح ان کا جھگڑا اپنی گرل فرینڈ سے ہو گیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد پائلٹ خاموش نہ رہ سکا۔ اس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہاں، آج میرا ذہن کسی قدر منتشر (upset) تھا۔ اس بنا پر ایسا ہوا۔ اُس نے مذکورہ جرنلسٹ سے اس پر معافی مانگی۔ موجودہ زمانہ میں جرأت مندی کے لیے انگریزی جاننا ضروری ہے۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جدید تہذیب نے کیسے کیسے پیچیدہ مسائل پیدا کیے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں یہ بات عام ہو گئی ہے کہ کوئی مرد شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، اس کی ایک گرل فرینڈ ہوتی ہے۔ اس گرل فرینڈ سے اس کا اکثر جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح ہر آدمی جب زندگی کے میدان میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے باہر آتا ہے تو وہ معتدل حالت میں نہیں ہوتا۔ یہ صورتِ حال اکثر اجتماعی زندگی میں فساد کا باعث بن جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وفادار خاندانی تعلق کوئی سادہ چیز نہیں۔ اُس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ گھر کے اندر ازدواجی مسرت، بچوں کی صحیح تربیت، زندگی کے فرائض کی حسنِ ادائیگی، مثبت طرزِ فکر، قومی زندگی کی تعمیر، تمام چیزوں سے اس کا رشتہ جڑا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خاندانی زندگی اگر صحیح
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues