Adventure in altitude
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
اخلاقی اصول پر قائم ہو تو اُس سے پوری زندگی درست ہوتی ہے اور اگر خاندانی زندگی میں اخلاقی بگاڑ آجائے تو پوری زندگی بگڑ کر رہ جائے گی ۔
ائیر پورٹ پر بھوپال کے ساتھی موجود تھے، مثلاً ڈاکٹر حمید اللہ ندوی، راجیندر سنگھ، ڈاکٹر گوتم، مولا نا محمد صدیق قاسمی، وغیرہ ۔
ائیر پورٹ سے روانہ ہو کر ہم لوگ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ یہاں کئی لوگ اکٹھا ہو گئے تھے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میںنے کہا کہ ہندوستان میں سیاسی بگاڑ کا اصل سبب تعلیم میں کچٹرا پن ہے۔ انڈیا میں آزادی کے بعد ڈیموکریسی آئی ہے۔ ڈیموکریسی کو بہتر طور پر چلانے کے لیے تعلیم یافتہ سماج ضروری ہے۔ جن سیاسی پارٹیوں کو ووٹ لینا ہے وہ مجبور ہیں کہ عوام کے معیار فہم کے مطابق وہ ان سے بات کریں۔ ہندوستان میں سطحی سیاست اسی لیے رائج ہوگئی ہے کہ یہاں کے ووٹر اپنی تعلیمی پسماندگی کی بنا پر گہری باتیں نہیں سمجھ سکتے۔ صرف سطحی باتیں ہی انہیں اپیل کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں سطحی قسم کی الیکشنی سیاست رائج ہوگئی ہے۔ یہ سیاست بلاشبہ تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ اس سیاست کو ختم کرنے کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ عوام کو ایجوکیٹ کر کے اُن کی ذہنی سطح کو بلند کیا جائے ۔ اس کے بعد یہ سطحی سیاست اپنے آپ ختم ہو جائے گی ۔ شام کو راج ٹی وی کا عملہ آگیا۔ انہوں نے ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انہوں نے مسلم مسائل کے ضمن میں بہت سے سوالات کئے۔
ایک سوال یہ تھا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بابری مسجد کو ڈھائے جانے کے ذمہ دار سابق کانگریسی پرائم منسٹر نرسمہا راؤ ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات واقعاتی طور پر غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نرسمہا راؤ نے اپنے زمانہ وزارت میں ایک بہت اہم کام انجام دیا تھا ۔ 1991ء میں انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کرایا۔ اس کا نام ”عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون“ (Places of Worship Act 1991) تھا۔ اس قانون میں یہ طے کیا گیا تھا کہ ہندوستان کی تمام عبادت گاہیں اپنی 1947ء کی حالت پر برقرار رکھی جائیں گی ، البتہ اس میں یہ درج تھا کہ باستثناء بابری
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues